Follw Us on:

’ایشیا کپ کی تیاری‘، پاکستان، افغانستان اور یو اے ای کے مابین آج سے ٹی ٹوئنٹی سیریز کا آغاز

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
Pak vs afg vs uae
افغانستان اس سیریز کے ذریعے اپنی تیاری بہتر بنانا چاہتا ہے کیونکہ ایشیا کپ میں اسے مشکل گروپ کا سامنا ہے۔ (فوٹو: کرک انفو)

ایشیا کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستان، افغانستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز کا آغاز آج شارجہ میں ہو رہا ہے۔

ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق ابتدا میں پاکستان اور افغانستان نے تین میچوں کی سیریز کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن میزبان یو اے ای کی شمولیت کے بعد یہ ایک مکمل سہ ملکی ٹورنامنٹ میں تبدیل ہو گیا۔

افغانستان اپنی مضبوط اسپن بولنگ کے باعث اس سیریز میں سب سے زیادہ توجہ کا مرکز ہے۔ ان کے پاس راشد خان، محمد نبی، مجیب الرحمان اور نوجوان نور احمد جیسے بولرز موجود ہیں جو کسی بھی بیٹنگ لائن کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔

شارجہ کی سست پچز ان کے حق میں جا سکتی ہیں لیکن ایک چیلنج یہ ہے کہ افغانستان نے رواں برس اب تک کوئی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل نہیں کھیلا۔ تاہم ان کے کئی کھلاڑی دنیا بھر کی لیگز میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

افغانستان اس سیریز کے ذریعے اپنی تیاری بہتر بنانا چاہتا ہے کیونکہ ایشیا کپ میں اسے مشکل گروپ کا سامنا ہے جس میں سری لنکا اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔

Shaheen shah bowling
سہ ملکی سیریز کے تمام میچز شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں ہوں گے جو اپنی سست اور لو اسکورنگ پچز کے باعث شہرت رکھتا ہے۔ (فوٹو: الجزیرہ)

متحدہ عرب امارات کے لیے یہ ٹورنامنٹ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے مقامی کھلاڑیوں کو بڑی ٹیموں کے خلاف کھیلنے کا موقع ملے گا۔

یو اے ای نے رواں برس بنگلہ دیش کو سیریز میں شکست دے کر سب کو حیران کیا تھا لیکن یوگنڈا کے خلاف ان کی کارکردگی اتنی اچھی نہیں رہی۔

کپتان محمد وسیم ان کے سب سے نمایاں بیٹر ہیں جن کا سٹرائیک ریٹ 155 سے زیادہ ہے۔ مڈل آرڈر میں آصف خان تیز رنز بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ اسپنرز حیدر علی اور زوہیب زبیر سست کنڈیشنز میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

پاکستان کی ٹیم اس سیریز میں ایک نئے انداز کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔ کوچ مائیک ہیسن نے جارحانہ بیٹنگ حکمت عملی اپنائی ہے اور اس بار سینئر بیٹرز کی بجائے نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا ہے۔

بابر اعظم اور محمد رضوان جیسے تجربہ کار بیٹرز کو ڈراپ کیا گیا ہے تاکہ پاور پلے میں زیادہ سٹرائیک ریٹ والے کھلاڑیوں کو آزمایا جا سکے۔

پاکستان نے اس حکمت عملی سے بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن ڈھاکہ میں شکست نے ظاہر کیا کہ یہ فارمولا سست وکٹوں پر ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتا۔

شارجہ کی پچز اسی نوعیت کی سمجھی جاتی ہیں اس لیے یہ سیریز پاکستان کی حکمت عملی کا امتحان ہوگی۔

Afg bowling
افغانستان اپنی مضبوط اسپن بولنگ کے باعث اس سیریز میں سب سے زیادہ توجہ کا مرکز ہے۔ (فوٹو: الجزیرہ)

پاکستان کے پاس اسپن بولنگ میں بھی مختلف آپشنز موجود ہیں۔ ابرار احمد، سفیان مقیم، محمد نواز اور کپتان سلمان علی آغا ٹیم کو اچھی سہولت فراہم کرتے ہیں لیکن کوچ کا زیادہ انحصار آل راؤنڈرز پر ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات اسپیشلسٹ بولرز کم نظر آتے ہیں۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ پاکستان کس امتزاج کے ساتھ کھیلتا ہے۔

پاکستان کے سکواڈ میں سلمان علی آغا (کپتان)، ابرار احمد، فہیم اشرف، فخر زمان، حارث رؤف، حسن علی، حسن نواز، حسین طلعت، خوش دل شاہ، محمد حارث، محمد نواز، محمد وسیم جونیئر، صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، سلمان مرزا، شاہین شاہ آفریدی اور سفیان مقیم شامل ہیں۔

افغانستان کے 17 رکنی سکواڈ میں راشد خان (کپتان)، رحمان اللّٰہ گرباز، ابراہیم زدران، درویش رسولی، صدیق اللّٰہ اتل، عظمت اللّٰہ عمرزئی، کریم جنت، محمد نبی، گلبدین نائب، شرف الدین اشرف، محمد اسحاق، مجیب الرحمان، اللہ غضنفر، نور احمد، فرید ملک، نوین الحق اور فضل الحق فاروقی شامل ہیں۔

یو اے ای کے سکواڈ میں علی شان شرافو، آصف خان، اتہان کارل ڈیسوزو، محمد وسیم (کپتان)، زوہیب خان، دھرو پراشر، ہارشت کوشک، محمد صغیر خان، اریانشاہ شرما، راؤل چوپڑا، حیدر علی، جنید صدیقی، محمد فاروق، محمد جواد اللہ اور محمد روحید شامل ہیں۔

سہ ملکی سیریز کے تمام میچز شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں ہوں گے جو اپنی سست اور لو اسکورنگ پچز کے باعث شہرت رکھتا ہے۔ اس ٹورنامنٹ کو ایشیا کپ کی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ تینوں ٹیمیں اگلے ماہ متحدہ عرب امارات ہی میں شیڈول ایشیا کپ میں شریک ہوں گی۔ تاہم افغانستان اور پاکستان ایشیا کپ میں مختلف گروپس میں شامل ہیں۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

متعلقہ پوسٹس