سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں امیر جماعتِ اسلامی کا کہنا تھا کہ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے، حالانکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ پیٹرولیم لیوی اور دیگر غیر ضروری ٹیکسز کو ختم کیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں یہ اضافہ خاص طور پر متوسط اور غریب طبقے کے لیے شدید مشکلات پیدا کرے گا اور پہلے سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام مزید پریشانی کا شکار ہوں گے۔

حافظ نعیم الرحمان نے خبردار کیا کہ اس فیصلے کے اثرات صرف عوام تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثر پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پہلے ہی بجلی اور گیس کی قیمتیں انتہائی بلند سطح پر ہیں، جس کے باعث اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ ایسے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ عوام کے لیے کسی 'ہتھوڑے' سے کم نہیں۔

امیر جماعتِ اسلامی پاکستان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ کیا جائے اور پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ واپس لیا جائے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 26، 26 روپے کا اضافہ کر دیا


خیال رہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات معیشت کے مختلف شعبوں پر مرتب ہوتے ہیں، جس سے ٹرانسپورٹ، خوراک اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔