Follw Us on:

ماحولیاتی تبدیلی اور آبی ذخائر کی تعمیر کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر کام جاری ہے، شہباز شریف

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
Featured image (1) (16)
وزیراعظم نے ماحولیاتی تبدیلی کو ایک قومی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ (تصویر: ایکسپریس)

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں آبی ذخائر کی تعمیر اور پانی کے بہتر انتظام کے لیے ایک جامع قومی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔

وزیرِاعظم آفس سے جاری کردہ بیان کے مطابق شہباز شریف نے کہا ہے کہ اس عمل میں چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کو شامل کیا جائے گا تاکہ مکمل مشاورت اور ہم آہنگی کے ساتھ پالیسی ترتیب دی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ آبی ذخائر کی تعمیر صوبوں کی مشاورت اور مکمل ہم آہنگی سے کی جائے گی۔ ماحولیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے مؤثر تیاری ناگزیر ہے تاکہ قدرتی آفات کے نقصانات کو کم کیا جا سکے۔

شہباز شریف نے کہا ہے کہ تمام صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور وفاقی دارالحکومت کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ عوام کو ماحولیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچایا جا سکے۔

جاری کردہ بیان کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر ایک پالیسی دستاویز پر کام جاری ہے، جس میں ماحولیاتی تبدیلی اور مون سون کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات شامل ہوں گے۔ یہ ورکنگ پیپر تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔

انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی کو ایک قومی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

Featured image (1) (17)
پانی کے بہتر انتظام کے لیے ایک جامع قومی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے، شہباز شریف (تصویر: کے ٹو ٹائمز)

وزیرِاعظم آفس سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ جیسے ہی ہنگامی صورتحال پر قابو پالیا جائے گا، وزیراعظم ایک اعلیٰ سطح اجلاس طلب کریں گے، جس میں چاروں وزرائے اعلیٰ کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم اور گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے گی۔

حکومتی ذرائع کے مطابق متعلقہ ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو محدود کرنے کے لیے عملی اقدامات پر غور جاری ہے۔

مزید پڑھیں: حافظ نعیم کا پسرور میں سیلاب متاثرہ علاقوں کا جائزہ، ’حکومت کی توجہ اشتہارات اور نمائشی سرگرمیوں پر مرکوز ہے‘

خیال رہے کہ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب ملک مون سون بارشوں سے شدید متاثر ہے۔ موجودہ سیزن کے دوران جون کے آخر سے شروع ہونے والے سیلابی سلسلے میں اب تک 820 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، جن میں سے نصف ہلاکتیں صرف اگست کے مہینے میں ہوئیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں اب تک دو لاکھ دس ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں 40  ہزار افراد نے رضاکارانہ طور پر 14 اگست کے بعد سیلابی وارننگ کے باعث اپنے گھر چھوڑے۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

متعلقہ پوسٹس