امریکی اپیلز کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے زیادہ تر ٹیرف غیر قانونی قرار دے دیے ہیں، جس سے ریپبلکن صدر کی عالمی اقتصادی پالیسی کو شدید دھچکا لگا ہے۔
تاہم عدالت نے یہ ٹیرف 14 اکتوبر تک برقرار رکھنے کی اجازت دی ہے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کو امریکی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا موقع مل سکے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب فیڈرل ریزرو کی خودمختاری سے متعلق ایک اور قانونی لڑائی بھی سپریم کورٹ تک پہنچ سکتی ہے، جس سے ٹرمپ کی مکمل معاشی پالیسی ایک بڑے عدالتی امتحان سے گزرنے والی ہے۔
ٹرمپ نے اپنی خارجہ پالیسی میں ٹیرف کو مرکزی حیثیت دی ہے اور انہیں دیگر ممالک پر سیاسی دباؤ ڈالنے اور تجارتی معاہدوں کو ازسرِ نو ترتیب دینے کے لیے استعمال کیا ہے۔
تاہم ان اقدامات نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی اور اتار چڑھاؤ میں بھی اضافہ کیا ہے۔

عدالت کے 7-4 کے فیصلے کے بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ ٹیرف ختم ہوگئے تو یہ ملک کے لیے مکمل تباہی ثابت ہوں گے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ سپریم کورٹ ان کے حق میں فیصلہ دے گی۔
یہ مقدمہ بنیادی طور پر ان “ریسی پروکل” ٹیرف پر ہے جو ٹرمپ نے اپریل میں اپنے تجارتی جنگ کے حصے کے طور پر لگائے تھے، اور فروری میں چین، کینیڈا اور میکسیکو پر عائد کیے گئے اضافی ٹیرف سے متعلق ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ 1977 کا انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ، جس کے تحت ٹرمپ نے یہ اقدامات کیے، صدر کو براہ راست ٹیرف یا محصولات عائد کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔
ماضی میں یہ قانون زیادہ تر دشمن ممالک پر پابندیاں لگانے یا ان کے اثاثے منجمد کرنے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔
فیصلے کے مطابق کانگریس کو آئین کے تحت ٹیکس اور ٹیرف عائد کرنے کا اختیار ہے، اور یہ اختیارات صدر کو منتقل کرنے کی کوئی واضح شق موجود نہیں ہے۔
اس کے باوجود عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اسٹیل اور ایلومینیم پر لگائے گئے ٹیرف، جو دوسرے قانونی اختیارات کے تحت لگائے گئے تھے، اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ درآمدات کو “ریگولیٹ” کرنے یا روکنے کا اختیار ایمرجنسی حالات میں صدر کو دیا گیا ہے اور اسی بنیاد پر ٹیرف لگائے گئے۔ ان کے مطابق مسلسل تجارتی خسارہ، امریکی صنعتوں کی کمزوری اور منشیات کی اسمگلنگ قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
فیصلے کے بعد ماہرین نے کہا کہ حکومت اس نتیجے کے لیے تیار تھی اور ممکنہ طور پر “پلان بی” کے تحت دیگر قوانین کے ذریعے ٹیرف برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔
اسٹاک مارکیٹ میں اس خبر پر کوئی بڑی ہلچل دیکھنے میں نہیں آئی، لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تجارتی پالیسی میں غیر یقینی صورتحال کاروباری ماحول کے لیے نقصان دہ ہوگی۔
اب یہ معاملہ براہِ راست سپریم کورٹ کے سامنے جانے کا امکان ہے، جہاں قدامت پسند ججوں کی اکثریت موجود ہے۔ اگرچہ عدالت نے حالیہ برسوں میں ٹرمپ کے ایجنڈے کی کئی حمایتیں کی ہیں، لیکن پرانے قوانین کی وسیع تشریحات کے خلاف بھی فیصلے دیے ہیں۔
یہ مقدمہ کئی چھوٹے امریکی کاروباروں اور بارہ ڈیموکریٹک ریاستوں نے دائر کیا تھا، جن کا موقف ہے کہ صدر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ اس سے پہلے نیویارک اور واشنگٹن کی عدالتوں نے بھی ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کے خلاف فیصلے دیے تھے، جنہیں حکومت نے اپیل کیا ہے۔