پاکستان میں رواں سال ادویات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے بعد استحکام دیکھنے میں آیا ہے۔
پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین توقیر الحق نے اشاعتی ادارہ بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ تازہ رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ فارماسیوٹیکل انڈسٹری میں بڑھتی مسابقت سے نے قیمتوں کے دباؤ کو کم کیا ہے۔
انہوں نے عالمی اینالیٹکس فراہم کنندہ آئی کیو وی آئی اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 30 جون 2025 کو ختم ہونے والے 12 ماہ کے دوران ادویات کی قیمتوں میں اضافہ سست ہو کر 18 فیصد رہ گیا ہے جو کہ کیلنڈر سال 2024 میں ریکارڈ کیے گئے 21.6 فیصد اضافے کے مقابلے میں کم ہے۔
چیئرمین توقیر الحق کا کہنا تھا کہ دواساز کمپنیوں کے درمیان قیمتوں اور مصنوعات کے معیار کے حوالے سے بڑھتی مسابقت مہنگائی کی شرح میں کمی، اور روپے، ڈالر ایکسچینج ریٹ میں استحکام کی واپسی نے 2025 کے دوران دواؤں کی تیزی سے بڑھتی قیمتوں کو بھی قابو کر لیا ہے۔
توقیر الحق کے مطابق 2025 کی دوسری سہ ماہی ‘اپریل تا جون’ میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار کم ہو کر صرف 15 فیصد رہ گئی جو رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں 17 فیصد تھی۔
مزید براں سہ ماہی بنیادوں پر رجحان سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دواسازی کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار بتدریج معمول پر آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں بتدریج استحکام مریضوں کے لیے بہتر ثابت ہوا ہے کیونکہ اس سے ادویات تک رسائی مناسب قیمتوں پر ممکن ہوئی ہے۔
ان کا اندازہ ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی سالانہ رفتار آئندہ بھی تقریباً 12 سے 15 فیصد کے درمیان رہے گی۔
توقیر الحق نے یاد دلایا کہ حکومت نے فروری 2024 میں غیر ضروری ادویات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا اور مشکل حالات میں بعض ادویات کی قیمتوں میں ایک مرتبہ نمایاں اضافہ منظور کیا تھا۔
یہ ہی ایڈجسٹمنٹ تین سال سے التوا کا شکار تھی اور جس کے باعث پیداواری لاگت فروخت قیمتوں سے بڑھ گئی تھی اور دواساز کمپنیوں نے سیکڑوں ادویات کی پیداوار روک رکھی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں کے تعین میں لچک اور اضافے سے مقامی صنعت نے اہم ادویات، بشمول کینسر، بلڈ پریشر اور امراض قلب کی ادویات، کی تیاری دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب پی پی ایم اے کے ایک سابق چیئرمین نے بتایا کہ پیداواری لاگت میں مسلسل اضافے سے صنعت کے مجموعی منافع میں 10 سے 15 فیصد کمی ہوئی ہے۔

ان کے مطابق افراط زر، توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور روپے کی قدر میں کمی نے لاگت میں نمایاں اضافہ کیا ہے جبکہ بجلی کے بل پیداواری اخراجات میں دوسرا سب سے بڑا جزو بن چکے ہیں۔
دونوں صنعتی عہدیداران کا خیال تھا کہ پالیسی فیصلوں کے تحت ادویات کی قیمتوں میں اضافے اور بعد ازاں ان کی استحکام نے دواساز کمپنیوں کو مہنگائی کے اثرات کو اپنی قیمتوں میں شامل کرنے پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے نئی سرمایہ کاری کرنے اور عوام کو ضروری ادویات کی بہتر فراہمی ممکن بنانے میں مدد دی ہے۔
واضع رہے کہ مقامی اور غیر ملکی کمپنیاں ویکسین کی تیاری اور ادویات کے خام مال ‘ایکٹیو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹس’ کی مقامی پیداوار میں سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتی ہیں جس سے درآمدی بل میں کمی اور شعبے میں خود انحصاری کو فروغ ملے گا۔