صرف اس ضلع میں 5 سے 16 سال کی عمر کے ایک لاکھ کے قریب بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ بچے مکینک کی دکانوں پر، اینٹوں کے بھٹوں پر کام کر رہے ہیں یا گھروں میں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ میں صرف تقریباً 20 فیصد لوگوں نے میٹرک کیا ہوا ہے جبکہ خواتین کی تعلیمی صورتحال اس سے بھی زیادہ ابتر ہے۔حافظ نعیم نے مزید کہا کہ پورے پنجاب میں ایک کروڑ سے زائد بچے اسکول سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹالز کا دورہ کرنے کے بعد انہیں نوجوانوں میں کسی قسم کی ٹیلنٹ کی کمی محسوس نہیں ہوئی اصل مسئلہ صلاحیت کا نہیں بلکہ مواقع کی عدم فراہمی کا ہے۔
حافظ نعیم نےخبردار کیا کہ پاکستان میں اس وقت 70 سے 80 لاکھ نوجوان منشیات کا شکار ہو چکے ہیں جن میں لڑکیاں اور یونیورسٹیوں و کالجوں کے طلبہ و طالبات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منشیات فروشی کے لیے تو آزادی ہے لیکن تعلیم کو پروپر طریقے سے آگے بڑھانے کے لیے کوئی سنجیدہ اقدامات نظر نہیں آتے۔
حافظ نعیم نے پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں سے اربوں روپے کے اشتہارات دیے جا رہے ہیں لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پنجاب کی چیف منسٹر اس بات کا جواب کیوں نہیں دیتیں کہ صوبے میں ایک کروڑ سے زائد بچے آؤٹ آف اسکول کیوں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کامرس کالجز ختم کیے جا رہے ہیں، یونیورسٹیوں میں داخلوں کی تعداد کم ہو رہی ہے اور آئی ٹی سیکٹر میں کوئی مؤثر پالیسی موجود نہیں۔
حافظ نعیم نے کہا کہ پنجاب کے 6 سے 8 کروڑ نوجوان جن کی عمر 30 سال سے کم ہے، اگر انہیں صحیح پالیسی اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ایمازون کورسز اور پائتھن جیسے شعبوں میں کام کر کے پاکستان کے تمام قرضے ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے پراپر پیمنٹ گیٹ وے اور سرکاری پالیسی ضروری ہے جو ابھی موجود نہیں۔
حافظ نعیم نے اعلان کیا کہ جن تحصیلوں میں ابھی تک کیمپس نہیں بنے ان میں بھی جلد کیمپس قائم کیے جائیں گے اور سرگودھا شہر میں بھی ضرورت کے مطابق مزید کیمپسز بنائے جائیں گے۔ انہوں نے اپنی خواتین اساتذہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جس لگن اور محنت سے پڑھایا وہ قابل تعریف ہے۔
حافظ نعیم نے اپنی تقریر کا مرکزی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ یہ چہروں کا مسئلہ نہیں بلکہ نظام کا مسئلہ ہے۔ 78 سے 79 سالوں میں جتنی بھی حکومتیں آئیں، اس سسٹم میں غریب، متوسط طبقے اور امیر کو کبھی ایک جیسی تعلیم، انصاف اور صحت کی سہولتیں نہیں ملیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری اسمبلی میں 80 فیصد سے زائد ارب پتی لوگ ہیں جن کے بچے یہاں نہیں پڑھتے اور علاج یہاں نہیں ہوتا ایسے لوگ عام آدمی کے مسائل کیا حل کریں گے۔
حافظ نعیم نے گریجویٹ طلبہ و طالبات سے اپیل کی کہ وہ بنو قابل پروگرام کے سفیر بنیں، الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار بنیں اور اپنے اسکرین ٹائم کو فائدہ مند بنائیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو یاد دلایا کہ یہ ملک کسی فیلڈ مارشل، جرنیل یا سیاستدان کا نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کا ہے۔







