وزیرِ اعظم کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں قیمتی پتھروں کے شعبے کی ترقی، عالمی معیار سے ہم آہنگی اور برآمدات میں اضافے کے امکانات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل خصوصاً قیمتی پتھروں سے مالا مال ملک ہے، اور اگر اس شعبے کو جدید ٹیکنالوجی اور عالمی معیار کے مطابق ترقی دی جائے تو یہ زرمبادلہ کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتا ہےاور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کر کے برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
انہوں نے معاون خصوصی ہارون اختر اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ قیمتی پتھروں کی کان کنی اور پراسیسنگ کے بعد برآمدات بڑھانے کے لیے وزارتِ منصوبہ بندی فوری طور پر ایک جامع اور قابلِ عمل لائحہ عمل تیار کرے اور اسے جلد پیش کیا جائے۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومت ملک میں قیمتی پتھروں کی کٹائی، تراش خراش اور زیورات سازی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے 3 جدید سینٹرز آف ایکسیلینس قائم کر رہی ہے۔ یہ مراکز گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں قائم کیے جا رہے ہیں، جبکہ اسلام آباد میں بھی ایک مرکز کے قیام پر کام جاری ہے۔
مزید بتایا گیا کہ آئندہ سال جولائی 2026 میں پاکستان میں قیمتی پتھروں کی پہلی بین الاقوامی نمائش کے انعقاد کی بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جس سے ملکی مصنوعات کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں مدد ملے گی۔
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سری لنکا اور چین کے تعاون سے مخصوص قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ اور تربیتی پروگرامز شروع کیے جا رہے ہیں، جبکہ وزارتِ پیٹرولیم جدید اور کم نقصان دہ کان کنی کے طریقوں کے فروغ پر بھی کام کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: جنگ کے خاتمے کے لیے وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل کے کردار کو سراہتے ہیں، ایرانی سفیر
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ منصوبوں میں مقامی آبادیوں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے اور ایک ہزار افراد کو بین الاقوامی معیار کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ اس شعبے کو پائیدار بنیادوں پر ترقی دی جا سکے۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ تمام منصوبوں میں شفافیت اور رفتار کو یقینی بنایا جائے تاکہ قیمتی پتھروں کا شعبہ جلد پاکستان کی برآمدی معیشت کا اہم ستون بن سکے۔
واضح رہے کہ ان مراکز میں بین الاقوامی معیار کے مطابق تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ مقامی ہنرمندوں کو جدید تکنیکوں سے آراستہ کیا جا سکے اور وہ عالمی مارکیٹ میں بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔ اس منصوبے کے تحت کان کنی اور پروسیسنگ کے شعبے میں افرادی قوت کی مہارت بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔







