واٹر سکیورٹی ٹاسک فورس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پانی کے مسئلے کو روایتی، صوبائی یا ادارہ جاتی تقسیم کے بجائے ایک قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی میں قومی سلامتی صرف دفاعی صلاحیت یا سرحدوں کے تحفظ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا تعلق غذائی تحفظ، توانائی، موسمیاتی لچک، آبی تحفظ اور معاشی استحکام سے بھی ہے۔ پانی کی کمی سے زراعت، خوراک، صنعت، توانائی، شہری زندگی اور قومی ترقی سب متاثر ہوتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ قیامِ پاکستان کے وقت فی کس پانی کی دستیابی پانچ ہزار مکعب میٹر سالانہ سے زائد تھی، جو اب کم ہو کر تقریباً ایک ہزار مکعب میٹر فی کس سالانہ کی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ آبادی میں اضافے، شہری طلب، زیرِ زمین پانی کی کمی، گلیشیئرز پر دباؤ، موسمیاتی تبدیلی اور سیلاب و خشک سالی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے اس مسئلے کو قومی ایمرجنسی بنا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے واضح کر دیا کہ پاکستان کو صرف پانی کی کمی نہیں بلکہ اس کی بدانتظامی کا بھی سامنا ہے۔ ایک طرف پانی کی قلت ہے اور دوسری طرف سیلابی پانی کو محفوظ نہ کر سکنے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوتی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ انڈیا کی جانب سے پانی کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوششیں پاکستان کی آبی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس صورتحال میں پاکستان کو پانی کے مسئلے کو توانائی، خوراک اور دفاعی سلامتی کی طرح قومی سطح پر دیکھنا ہوگا اور غیر ضروری سیاسی تنازعات اور تنگ صوبائی سوچ سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمتِ عملی اپنانی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت کسی ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ سندھ کو خشک سالی، سیلاب اور سمندری پانی کے چڑھاؤ سے تحفظ درکار ہے، پنجاب کو قومی غذائی تحفظ کے لیے قابلِ اعتماد آبپاشی چاہیے، بلوچستان کو انسانی ترقی، لائیو اسٹاک اور زراعت کے لیے پانی کی ضرورت ہے، جب کہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کو پن بجلی، گلیشیئرز کے خطرات اور آبی تحفظ کے حوالے سے جامع حکمتِ عملی درکار ہے۔
وفاقی وزیر نے نئے آبی ذخائر پر قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈیمز اور ذخائر کسی صوبے کے خلاف نہیں بلکہ قومی بقا کے اثاثے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑے، درمیانے اور چھوٹے ڈیمز، ری چارج ڈیمز، ڈیلے ایکشن ڈیمز، ہل ٹورینٹس مینجمنٹ، سیلابی پانی کے ذخیرے اور شہری علاقوں میں بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبوں پر فوری پیش رفت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانی کے مؤثر استعمال کو قومی ترجیح بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے قومی واٹر ایفیشنسی اور کنزرویشن مشن شروع کیا جائے، جس کے تحت نہری نظام کی جدید کاری، واٹر کورسز کی پختگی، لیزر لینڈ لیولنگ، ڈرِپ اور اسپرنکلر آبپاشی، ڈیجیٹل شیڈولنگ، کلائمیٹ اسمارٹ زراعت، ویسٹ واٹر ری سائیکلنگ اور شفاف واٹر اکاؤنٹنگ کو فروغ دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ہر قطرے سے زیادہ پیداوار اور زیادہ قدر کے اصول پر آگے بڑھنا ہوگا۔ بہتر بیج، کم پانی استعمال کرنے والی فصلیں اور زیادہ قدر والی زرعی پیداوار کو فروغ دینا ہوگا۔
انہوں نے زیرِ زمین پانی کے تیزی سے کم ہوتے ذخائر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گراؤنڈ واٹر پاکستان کی خاموش لائف لائن ہے، مگر کئی علاقوں میں اس کا غیر منظم استعمال ہو رہا ہے۔ اس کے لیے قومی گراؤنڈ واٹر گورننس فریم ورک ناگزیر ہے، جس میں ایکویفر میپنگ، ری چارج زونز، نکاسی کی نگرانی اور ہائی اسٹریس علاقوں کے لیے قواعد شامل ہوں۔
انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کو واٹر سکیورٹی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ریئل ٹائم ٹیلی میٹری، سیٹلائٹ مانیٹرنگ، مصنوعی ذہانت پر مبنی پیش گوئی، اسمارٹ میٹرنگ، فلڈ ماڈلنگ اور خشک سالی کے ابتدائی انتباہی نظام اپنانا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو ایک جامع نیشنل واٹر انفارمیشن سسٹم کی ضرورت ہے، جس میں پانی سے متعلق تمام اہم ڈیٹا بروقت دستیاب ہو۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان واٹر سکیورٹی کو قومی اتفاقِ رائے، سائنسی منصوبہ بندی، صوبائی ہم آہنگی، جدید ٹیکنالوجی اور فوری عمل درآمد کے ذریعے یقینی بنائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ اڑان پاکستان کا خواب واٹر سکیورٹی کے بغیر ممکن نہیں اور اس کے لیے قومی اتحاد اور مؤثر فیصلے ناگزیر ہیں۔







