دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں مشرق وسطیٰ اور اس سے جڑے دیگر خطوں کی موجودہ کشیدہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ جاری کشیدگی عالمی اور علاقائی معیشت پر کس طرح اثر انداز ہو رہی ہے، خصوصاً توانائی کی قیمتوں، تجارت اور سرمایہ کاری پر اس کے ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور مکالمے کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پیچیدہ علاقائی مسائل کا حل صرف سفارتکاری، باہمی احترام اور مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے،پاکستان ہمیشہ تنازعات کے پرامن حل کا حامی رہا ہے اور آئندہ بھی اسی پالیسی پر کاربند رہے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں کے ذریعے مثبت پیش رفت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کرے گا۔

دوسری جانب کویتی وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے خطے میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا، پاکستان نہ صرف امت مسلمہ بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک ذمہ دار اور متوازن کردار ادا کر رہا ہے، جو قابلِ تحسین ہے۔

گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور کویت کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک مختلف شعبوں، خصوصاً تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے میدان میں تعاون کو مزید فروغ دیں گے۔

دونوں فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ موجودہ علاقائی حالات کے پیش نظر قریبی رابطے برقرار رکھے جائیں گے تاکہ مشترکہ مفادات کا تحفظ کیا جا سکے اور خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو تقویت دی جا سکے۔

واضح رہے کہ  اس نوعیت کے اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔