رحیم یار خان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وسائل کی غیر مساوی تقسیم کے باعث صرف مخصوص طبقہ ہی عدالتوں تک رسائی حاصل کر پاتا ہے، جبکہ بڑی تعداد میں عوام مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے انصاف سے محروم رہ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی تقریباً 44 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، اور ایسے حالات میں غریب طبقے کے لیے عدالتی نظام تک رسائی مزید مشکل ہو جاتی ہے، جب تک معاشی ناہمواری ختم نہیں ہوتی، انصاف کا حصول بھی مشکل رہے گا۔

حافظ نعیم الرحمان نے وکلا برادری کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی نظام کو بہتر بنانے میں وکلا کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ زیر التوا مقدمات کے بوجھ کو کم کیا جا سکے اور عام شہریوں کو بروقت انصاف فراہم ہو سکے۔

امیر جماعت اسلامی نے الزام عائد کیا کہ بعض اوقات حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں وکلا برادری بھی تقسیم کا شکار ہو جاتی ہے، جس سے عدالتی نظام مزید متاثر ہوتا ہے،اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔

 ملکی سیاسی جماعتوں کے اندرونی انتخابات پر بھی تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ کئی بڑی جماعتیں جمہوریت کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن اپنے اندر باقاعدہ انتخابی عمل نہیں کرتیں، بعض جماعتوں میں محض رسمی اجلاس کے ذریعے قیادت کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس جماعت اسلامی میں باقاعدہ جمہوری عمل موجود ہے اور جماعت کے اندر نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ قیادت تک باقاعدہ انتخابات منعقد کیے جاتے ہیں، جو کسی بھی صورتحال میں تسلسل کے ساتھ جاری رہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: عید کے بعد آئی پی پیز مافیا اور عوام کے استحصال کے خلاف تحریک چلائیں گے، حافظ نعیم الرحمن

جماعت اسلامی کے امیر  کے مطابق ان کی جماعت میں حقیقی جمہوری کلچر موجود ہے جہاں فیصلے مشاورت اور انتخابی عمل کے ذریعے ہوتے ہیں، جو اسے دیگر سیاسی جماعتوں سے مختلف بناتا ہے۔

واضح رہے کہ  ان بیانات کا مقصد ملک میں عدالتی اصلاحات اور سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری عمل پر توجہ دلانا ہے، جبکہ عوامی سطح پر انصاف کے نظام سے متعلق بڑھتی ہوئی شکایات بھی ایک اہم مسئلہ بنتی جا رہی ہیں۔