تفصیلات کے مطابق صومالی قزاقوں نے رابطہ کرنے والی انصار برنی ویلفیئر ٹرسٹ کو آگاہ کیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات صرف حکومت پاکستان کے نمائندوں کے سامنے ہی پیش کریں گے۔

نجی نشریاتی ادارے کے مطابق ٹرسٹ کے سربراہ انصار برنی نے بتایا کہ قزاقوں کے ساتھ رابطہ کامیابی سے قائم ہو چکا ہے، تاہم حکومت کی جانب سے تاحال کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

بحری لٹیروں  نے 10 پاکستانی شہریوں سمیت عملے کے 17 ارکان کی تصاویر بھی فراہم کی ہیں، جو اس وقت ان کی حراست میں ہیں۔ صومالی قزاقوں نے آئل ٹینکر اونر 25 کو عملے سمیت 21 اپریل کو اغوا کیا تھا اور گزشتہ دو ہفتوں سے مغوی پاکستانیوں کے اہلِ خانہ شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

انصار برنی ٹرسٹ کی ڈائریکٹر قرت العین ایڈووکیٹ کے مطابق قزاقوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اپنے مطالبات صرف حکومت پاکستان کے نمائندوں کے سامنے رکھیں گے، جب کہ حکومت کی جانب سے اب تک کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ یہاں تک کہ قزاقوں کی جانب سے وزارتِ خارجہ کو بھیجی گئی ای میل کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ قزاقوں نے انڈونیشیا، میانمار اور سری لنکا کی حکومتوں سے بھی رابطہ کیا ہے، کیونکہ جہاز کے مغوی عملے کے سات ارکان کا تعلق ان ممالک سے ہے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی مغویوں کی رہائی کے لیے متعلقہ فریق سے مسلسل رابطے میں ہے۔

کراچی کے 80 سالہ شہری عمر فاروق نے اپنے بیٹے کی بحفاظت رہائی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس عمر میں شدید پریشانی کے عالم میں دربدر ہونا پڑ رہا ہے۔ ان کے بیٹے کاشف عمر بھی قزاقوں کی حراست میں موجود عملے میں شامل ہیں۔

اسی طرح کراچی کے ایک اور شہری عمران علی بھی مغویوں میں شامل ہیں، جن کے بھائی علی اکبر نے حکومت پاکستان سے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی اپیل کی ہے تاکہ تمام پاکستانی بحفاظت وطن واپس آ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ مغویوں کی تازہ تصاویر سامنے آنے سے کچھ حوصلہ ملا ہے، کیونکہ اس سے کم از کم یہ تصدیق ہوئی ہے کہ وہ زندہ ہیں۔

اونر 25 کے مغوی عملے کے اہلِ خانہ انصار برنی ٹرسٹ کے دفتر کے باہر جمع ہوئے اور مشترکہ طور پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ کم از کم ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو انہیں رہائی کے لیے جاری کوششوں سے آگاہ رکھے۔

مغوی پاکستانیوں کے اہلِ خانہ کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم نہیں کہ اپنے پیاروں کی رہائی کے لیے کہاں رجوع کریں اور کس سے مدد طلب کریں۔