اسلام آباد میں منعقدہ چھٹی  میسج آف اسلام کانفرنس  میں شہباز شریف نے شرکت کی اور پاکستان علماء کونسل اور عالمی تنظیم برائے حرمین شریفین کو کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی۔انہوں نے کہا کہ یہ اجتماع امتِ مسلمہ کے اتحاد کی ایک خوبصورت جھلک پیش کر رہا ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہے جب خطے اور دنیا میں حالیہ دنوں میں ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے۔ 11 اور 12 اپریل کو ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات ہوئے جن میں پاکستان نے اہم سہولت کاری کا کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کی قیادت نے پاکستان کی دعوت پر وفود بھیجے اور جنگ بندی کی طرف ابتدائی پیش رفت ہوئی، جو پاکستان پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔ حالیہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی کہ دونوں ممالک کی قیادت اسلام آباد میں مذاکراتی میز پر آمنے سامنے بیٹھی ہو۔

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ پاکستان نے اسلامی دنیا اور عالمی امن کے لیے یہ ایک اہم خدمت انجام دی ہے اور امید ہے کہ یہ مذاکرات جلد پائیدار امن میں تبدیل ہوں گے، جس سے خطے میں انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے گا۔

انہوں نے اس عمل میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے کردار کو سراہا، جب کہ چین اور ترکی کے تعاون کو بھی اہم قرار دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا، جب کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو بھی سراہا گیا جنہوں نے فریقین کو مذاکرات اور جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات اور باہمی اعتماد کا مظہر ہے، جب کہ حرمین شریفین کے تحفظ کو پاکستان اپنی زندگی سے بھی زیادہ اہم سمجھتا ہے۔

مزید پڑھیں: فریقین سے بات چیت جاری، معاہدہ امریکی مفادات کے مطابق ہونے پر فیصلہ ہوگا؛ ٹرمپ

شہباز شریف نے کہا کہ اسلام امن، اتحاد اور رواداری کا دین ہے اور نبی کریم ﷺ کی سیرت پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ حالیہ بحران کے دوران پوری قوم نے اتحاد کا مظاہرہ کیا اور پاکستان ایک بار پھر ایک مضبوط دیوار کی مانند کھڑا نظر آیا۔

انہوں نے اس موقع پر فلسطین اور کشمیر کے عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مظلوم عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔

واضح رہے کہ کانفرنس میں مختلف وفاقی وزراء، فلسطینی قیادت، سعودی عرب کے سفیر، اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء نے بھی شرکت کی۔