ترجمان نے بریفنگ کے آغاز میں کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور خطے میں استحکام، سفارت کاری اور باہمی احترام کو فروغ دینے پر یقین رکھتا ہے، تاہم قومی مفادات اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا ممکن نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے جاری رکھے، جن میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ہونے والی گفتگو بھی شامل ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ایک حالیہ بیان میں آپریشن “فریڈم” کے روکنے کو مثبت پیشرفت قرار دیا ہے، اور اسے خطے میں کشیدگی میں کمی کی جانب ایک قدم قرار دیا ہے۔

 طاہر حسین اندرابی نے مزید بتایا کہ یوگنڈا میں گرفتار 85 پاکستانی شہریوں کو ویزا قوانین کی خلاف ورزی کے باعث جرمانے کی ادائیگی کے بعد وطن واپس لایا گیا ہے۔ ان افراد کی رہائی کے لیے سفارتی سطح پر مسلسل رابطے کیے گئے۔

مزید پڑھیں: پاکستان امن کا علمبردار ہے ،مگر خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا: اسحاق ڈار

خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور عالمی شراکت دار بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات بھارت کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات سامنے آتے ہیں، تاہم پاکستان ہمیشہ ذمہ دارانہ اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ردعمل دیتا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس عمل میں سہولت کاری کا کردار ادا کر رہا ہے اور امید ہے کہ جلد پیش رفت سامنے آئے گی۔  مزاحیہ انداز میںانہوں نے  کہا کہ معاہدے کی تفصیلات کا انحصار فریقین پر ہے، اور کبھی کبھی “فارمیٹ اور الفاظ” بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

صومالیہ میں قزاقوں کے قبضے میں موجود 10 پاکستانیوں کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ ان کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں، جبکہ ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام اور صومالی حکومت سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔

بھارت کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تصادم نہیں چاہتا بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری کا حامی ہے، تاہم کسی بھی جارحیت کی صورت میں مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا، سندھ طاس معاہدہ سمیت تمام سفارتی اور قانونی آپشنز پاکستان کے زیر غور رہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان ہر قربانی کے لیے تیار ہے ، اسحاق ڈار

افغانستان سے متعلق سوالات کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں بعض مثبت مقامی انتظامات قابلِ ستائش ہیں، تاہم پاکستان کا بنیادی اور دیرینہ مسئلہ افغان سرزمین کا دہشتگردی کے لیے استعمال ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلقات کی بہتری اسی وقت ممکن ہے جب اس مسئلے پر واضح اور قابلِ عمل ضمانتیں دی جائیں۔

بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز مکمل طور پر متحرک ہیں اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر دہشتگردی کے سہولت کاروں کے خلاف آواز بلند کر رہا ہے۔

بھارت کی جانب سے اسلحہ خریداری میں اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط بنا رہا ہے اور ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

ترجمان نے متحدہ عرب امارات میں پاکستانی شہریوں کے مختلف کیسز سے متعلق بتایا کہ ان معاملات کو انفرادی بنیادوں پر دیکھا جا رہا ہے اور ان میں کسی قسم کا سیاسی پہلو شامل نہیں۔