وزیر خارجہ کے مطابق مجموعی طور پر 11 پاکستانی اور 20 ایرانی ملاح اس وقت ایسے بحری جہازوں پر موجود ہیں جو سنگاپور کی سمندری حدود کے قریب زیرِ تحویل ہیں۔ یہ جہاز امریکی حکام کی نگرانی میں ہیں، جس کے باعث صورتحال پیچیدہ اور حساس نوعیت اختیار کر گئی ہے۔

اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں بتایا کہ انہوں نے اس حوالے سے اپنے سنگاپوری ہم منصب ویوین بالا کرشنن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ ملاحوں کی فلاح و بہبود اور جلد واپسی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے۔

پاکستان کی اولین ترجیح اپنے شہریوں کی حفاظت اور ان کی بحفاظت وطن واپسی ہے، اور اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ ممالک سے رابطے میں رہا جا رہا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے ایران کے ساتھ بھی اس معاملے پر قریبی رابطہ رکھا ہے، اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی اس صورتحال پر بات چیت کی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایران کو یہ پیشکش بھی کی ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنے 20 ایرانی ملاحوں کی واپسی کے لیے پاکستان کے راستے تمام تر سفری اور لاجسٹک سہولیات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

مزید پڑھیں: دشمن میڈیا پر پروپیگنڈہ کر رہا ہے تاکہ ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جاسکے: قالیباف

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق امریکی حکام کے ساتھ بھی سفارتی سطح پر رابطے جاری ہیں تاکہ اس معاملے کے تمام پہلوؤں کو واضح کیا جا سکے اور ملاحوں کی جلد رہائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ امریکی حکام نے ان بحری جہازوں کو کس قانونی یا سیکیورٹی بنیادوں پر تحویل میں لیا ہے۔ پاکستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ ایک انسانی ہمدردی کا معاملہ ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی تاخیر سے گریز کیا جانا چاہیے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی کوشش ہے کہ یہ معاملہ جلد از جلد پرامن اور سفارتی طریقے سے حل ہو تاکہ تمام ملاح اپنے اپنے ملکوں کو بحفاظت واپس جا سکیں۔