بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے وفود آئندہ ہفتے اسلام آباد میں ایک بار پھر آمنے سامنے آ سکتے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان جاری پسِ پردہ رابطوں میں پاکستان، قطر اور چند خلیجی ممالک اہم ثالثی کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران ایک مختصر مگر اہم دستاویز پر غور کر رہے ہیں، جس میں ایک ماہ کے مذاکراتی عمل کے لیے بنیادی اصول، اہداف اور ضابطہ کار طے کیا جائے گا، اس مجوزہ مفاہمتی یادداشت میں 14 اہم نکات شامل کیے گئے ہیں
📌 US and Iran may resume talks next week in Islamabad: Report
— Anadolu English (@anadoluagency) May 8, 2026
➡️ 14-point memorandum covers Iran’s nuclear program, easing tensions in Hormuz, and possible transfer of enriched uranium abroad, the Wall Street Journal says https://t.co/w6YfPCvnlk pic.twitter.com/fGykJGj1SK
رپورٹس کے مطابق معاہدے کے ابتدائی نکات میں ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیئم کے ذخائر، خلیجی خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے کے اقدامات شامل ہیں،امریکا خطے میں استحکام چاہتا ہے، تاہم ایران کے ایٹمی پروگرام پر دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی بھی جاری رکھنا چاہتا ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق ایران کی جانب سے بھی مجوزہ نکات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور بعض معاملات پر تہران نے اپنے تحفظات ثالث ممالک کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچا دیے ہیں۔ خاص طور پر ایران پر عائد معاشی پابندیوں میں ممکنہ نرمی اب بھی مذاکرات کا سب سے حساس موضوع تصور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر ابتدائی مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو ایک ماہ پر مشتمل اس سفارتی عمل میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے، جبکہ مستقبل میں براہِ راست اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا، جہاں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان طویل دورانیے کی بات چیت ہوئی۔ تقریباً 21 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہوئے تھے، تاہم سفارتی ذرائع نے اس عمل کو مثبت پیش رفت قرار دیا تھا۔اگر اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم سفارتی پیش رفت سمجھی جائے گی، جس کے اثرات عالمی تیل منڈی اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر مرتب ہو سکتے ہیں۔







