پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ملک میں جاری سیاسی کشیدگی، حکومتی رویے اور قومی اسمبلی کے موجودہ اجلاس سے متعلق امور پر گفتگو کی۔ اس موقع پر اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطوں کو مزید مؤثر بنانے اور مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پارلیمان کو عوامی مسائل کے حل اور جمہوری استحکام کے لیے  فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں آئینی معاملات کو درست انداز میں نہیں چلایا جا رہا اور موجودہ طرزِ عمل تشویشناک ہے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عوام مہنگائی اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے ایوان میں مہنگائی، دہشت گردی اور خارجہ پالیسی جیسے اہم مسائل پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔

مزید پڑھیں: مہنگائی میں کمی اور عام آدمی کے ریلیف کے لیے اقدامات کیے جائیں، صدر مملکت کی وزیراعظم سے گفتگو

انہوں نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر سیاسی ماحول میں کشیدگی کم نہ کی گئی تو پارلیمانی تعاون متاثر ہو سکتا ہے۔