پولیس اور ریسکیو حکام کے مطابق دھماکا سرائے نورنگ کے مرکزی بازار اور چوک کے قریب اس وقت ہوا جب دھماکہ خیز مواد سے بھری تین پہیوں والی گاڑی میں سوار خودکش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریبی دکانیں، گاڑیاں اور عمارتیں بھی متاثر ہوئیں جبکہ متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔
ریسکیو 1122 حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے فوری بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ شدید زخمی افراد کو بنوں کے مختلف اسپتالوں میں ریفر کیا گیا ہے جہاں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
#BREAKING: A deadly explosion in Lakki Marwat, Khyber Pakhtunkhwa, Pakistan has left at least 9 dead and over 20 injured. Rescue teams and security forces have rushed to the scene as authorities begin an investigation. pic.twitter.com/e1FY6aeuEc
— Aristotle (@NewsSportzz) May 12, 2026
ٹی ایچ کیو اسپتال سرائے نورنگ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد اسحاق کے مطابق اب تک 37 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ حملہ آور نے چیک پوسٹ کے قریب موجود اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ سینئر پولیس افسران کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے جبکہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
یہ دھماکا ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل قریبی ضلع بنوں میں بھی ایک خودکش حملے میں متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے ۔ سکیورٹی اداروں کے مطابق شدت پسند عناصر خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں امن و امان خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان نے حالیہ دہشت گرد حملوں کے تناظر میں افغانستان سے متعلق اپنے خدشات کا بھی اظہار کیا ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے افغان سفارتکار کو طلب کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔
افغان طالبان حکومت ماضی کی طرح ایک بار پھر پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کر چکی ہے کہ افغان سرزمین دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال ہے، تاہم پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے شواہد موجود ہیں۔
دھماکے کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں۔







