بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ کابل اس وقت پاکستان کے خلاف نہ صرف انڈیا بلکہ ہندوتوا کی جنگ بھی لڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس وقت دہلی اور کابل میں کوئی فرق نہیں، مشرقی اور مغربی سرحد پر ایک ہی دشمن بیٹھا ہوا ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق پاکستان نے کئی بار دیانتداری کے ساتھ کوشش کی اور افغان حکومت سے درخواست کی کہ وہ دہشت گردوں کی پشت پناہی ترک کرے اور ان کے کیمپ ختم کرے، تاہم کابل حکومت اس جانب آنے کو تیار نہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے اس معاملے پر سعودی عرب، ترکی اور قطر کو بھی ثالثی کے لیے شامل کیا، لیکن ان کوششوں کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ دہلی اور کابل کے درمیان فرق ہو اور افغان حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرے تاکہ دہشت گردی کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے، مگر افغانستان اس پر آمادہ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پھر اس کا ایک ہی حل رہ جاتا ہے کہ تنگ آمد بجنگ آمد، جو ہم نے دہلی کے ساتھ کیا، وہی کابل کے ساتھ کریں گے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ طویل عرصے تک دہشت گردی کے معاملے پر خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے تعاون حاصل نہیں تھا، تاہم اب صورتحال بہتر ہے اور تمام ادارے ایک پیج پر ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں، جب کہ سرحدی علاقوں میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔






