جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ لوئر دیر کے پہاڑی علاقے میں شاندار جلسہ عام کے انعقاد پر وہ مقامی قیادت کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جلسہ اختتام نہیں بلکہ ایک نئی جدوجہد کا آغاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر رہا ہے، اس لیے بڑی جدوجہد کی تیاری کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب نظام کی صرف شاخیں نہیں کاٹی جائیں گی بلکہ اسے جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ گزشتہ 79 برس سے ملک پر حکمرانی کرنے والوں میں بڑے بیوروکریٹس، جاگیردار، سرمایہ دار اور بااثر طبقات شامل ہیں، جنہوں نے آپس میں اتحاد قائم کر رکھا ہے۔ انہوں نے اس اتحاد کو مافیاز کا کنسورشیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ قوم کو مل کر اس نظام کو تبدیل کرنا ہوگا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وہ لوئر دیر میں 80 ہزار جماعت اسلامی ممبرز بنانے کا ہدف رکھتے ہیں۔ انہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مقابلہ گولی اور گالی کی سیاست پر نہیں بلکہ تعلیم اور خدمت پر ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ملک بھر میں ہزاروں تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں، جبکہ حکومت لوئر دیر میں ایک بھی کالج قائم نہیں کر سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے، لیکن اسے تعلیم کے شعبے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

امیر جماعت اسلامی نے سوال اٹھایا کہ لوئر دیر میں اب بھی اتنی بڑی تعداد میں بچے اسکولوں سے باہر کیوں ہیں۔ انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے اسکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کے عمل پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کی نجکاری مسائل کا حل نہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ لوئر دیر میں بلدیاتی حکومتوں کو اختیارات نہیں دیے گئے، جبکہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کو بھی بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانا چاہیے۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے تمام سیاسی قیدیوں بشمول بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے پٹرولیم لیوی اور ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف عید کے بعد ملک گیر ہڑتال اور لانگ مارچ کی کال دے دی۔

حافظ نعیم الرحمان نے عید کے بعد اسلام آباد کی طرف فیصلہ کن لانگ مارچ کا اعلان کر دیا اور کہا کہ 22 مئی کو ملک بھر میں بڑے مظاہرے ہوں گے، جب کہ جون کے پہلے عشرے میں ملک گیر ہڑتال کر کے پورے پاکستان کو جام کر دیا جائے گا۔

انہوں نے پٹرول کی قیمت 410 روپے ہونے کو بدترین ظلم قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں اب تک عوام سے 8 ہزار 66 ارب روپے وصول کیے ہیں۔ موٹرسائیکل سواروں اور محنت کش طبقے سے سالانہ 500 ارب روپے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، جب کہ اشرافیہ کو مراعات حاصل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج چچا بھتیجی عوام کے پیسے سے تشہیر کرتے ہیں، مہنگے جہاز خریدتے ہیں لیکن عوام کو تعلیم نہیں دیتے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی واحد جمہوری جماعت ہے اور وہ کسی کے کرایہ دارنہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی میں صرف سیٹ حاصل کرنے کی غرض سے آنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں، ہمارا اتحاد صرف عوام سے ہے۔