تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ، عمران خان کی بہنوں اور پارٹی کارکنوں کے قافلے کے ہمراہ راولپنڈی میں واقع اڈیالہ جیل جا رہے تھے، جہاں ان کا ارادہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے ملاقات کرنا تھا، تاہم انہیں اسلام آباد اور راولپنڈی کے داخلی راستوں پر ہی روک لیا گیا۔

انتظامیہ کی جانب سے قافلے کو سیکٹر 26 کے قریب روکا گیا، جب کہ راستے بند کرکے عام ٹریفک کو بھی متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ آج عمران خان سے ملاقات کا دن ہے۔ ہم ہمیشہ پُرامن رہے ہیں، ہم آتے ہیں، اگر ملاقات نہیں ہونے دی جاتی تو واپس چلے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کے لیے اس طرح راستے بند کرکے آخر کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟ کبھی گندم روکی جاتی ہے اور کبھی راستے۔ آخر ایک صوبے کو الگ تھلگ کیوں کیا جا رہا ہے؟ کیا خیبر پختونخوا کے عوام کسی سے کم ہیں؟

سہیل آفریدی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں شاید یہ سب مذاق لگتا ہے کہ ایک صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے مطالبات جائز ہیں اور عمران خان کا علاج ان کے ذاتی معالج کی نگرانی میں اور ان کی مرضی کے اسپتال میں کروایا جانا چاہیے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ جو کچھ ان کے ساتھ ملک کے دیگر حصوں اور کشمیر میں کیا گیا اور جو آج ہو رہا ہے، وہ مزید نہیں چل سکتا۔

انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے آج ہوش کے ناخن نہ لیے تو پھر ہمیں وہی کرنا پڑے گا جو ہم نہیں کرنا چاہتے۔