وائٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ردعمل کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور واشنگٹن کو امید ہے کہ تہران سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم واضح اور درست جواب چاہتے ہیں، اگر معاہدہ نہ ہوا تو دباؤ برقرار رکھا جائے گا ۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت شدید داخلی اور اقتصادی بحران کا شکار ہے اور اسی لیے وہ امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے بے چین نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ حکومت پر اندرونی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور محدود جنگ کو ابھی چند ماہ ہی ہوئے ہیں اور زیادہ وقت سے جنگ بندی ہوئی ہے لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی ڈیل نہ ہوئی تو امریکا دوبارہ حملہ کر سکتا ہے، تمام آپشنز ابھی میز پر ہیں‘۔ حالیہ کارروائیوں میں ایران کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے اور تہران کی عسکری اور اقتصادی صورت حال پہلے کی نسبت کمزور ہو گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو جلد بازی کی ضرورت نہیں کیونکہ دباؤ کی موجودہ پالیسی موثر ثابت ہورہی ہے، آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی صورتحال قابو میں ہے اور امریکا خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔
صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ان کی ترک صدر رجب طیب اردوان سے بھی ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے، جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، ایران تنازع اور خطے کی سلامتی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ٹرمپ کے مطابق ترکی خطے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی معاملات پر مثبت بات چیت ہوئی۔
دوسری جانب ایران نے بھی امریکی بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی نئی تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغی نے تصدیق کی کہ امریکہ کی جانب سے حالیہ سفارتی پیغامات موصول ہوئے ہیں اور تہران نے اپنی قومی سلامتی اور مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں قبول کیا ہے۔ تجاویز پر غور کر رہا ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ پاکستان اس پورے سفارتی عمل میں کلیدی سہولت کاری کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی تہران میں موجود ہیں اور ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں معاونت کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: چین اور روس کو ہر قسم کی دھونس، دھمکیوں اور تاریخ کو پیچھے دھکیلنے والے اقدامات کی مخالفت کرنی چاہیے، صدر شی جن پنگ
ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران نے مذاکرات کے لیے 14 نکاتی فریم ورک تیار کیا ہے جس کی بنیاد پر امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی دباؤ یا دھمکی کے تحت فیصلے نہیں کرے گا بلکہ تمام اقدامات قومی مفادات کے مطابق کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو خطے میں نئی فوجی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے جس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ میں امن پر پڑ سکتے ہیں۔
دریں اثنا، بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے اور بہت سے ممالک امید کر ہیں کہ اسلام آباد دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔







