حکام کے مطابق واقعہ اتوار کی صبح تقریباً آٹھ بجے اس وقت پیش آیا جب کوئٹہ کینٹ سے آنے والی ٹرین شہر کی جانب جا رہی تھی۔ چمن پھاٹک کے قریب زور دار دھماکے کے باعث ٹرین پٹری سے اتر گئی جبکہ ایک بوگی الٹ گئی۔

محکمہ صحت اور پولیس حکام نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، 23 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ ان کے مطابق لاشوں کو سول ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر چکی ہے۔ زیادہ تر زخمیوں کو سول ہسپتال اور سی ایم ایچ منتقل کیا گیا جبکہ بعض زخمیوں کو ایف سی ہسپتال، بی ایم سی اور نیو ٹراما سینٹر بھی پہنچایا گیا۔

پولیس کے مطابق دھماکے میں نہ صرف ٹرین کے مسافر متاثر ہوئے بلکہ قریبی راہ گیر اور اردگرد کی عمارتوں میں رہنے والے افراد بھی زد میں آئے۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد شدید فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیں۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ پھاٹک کے قریب واقع گھروں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ متعدد گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی، جسے بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔

وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کوئٹہ کینٹ سے آنے والی شٹل ٹرین پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ دہشت گردی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اور افغانستان سے چلنے والے پاکستان دشمن نیٹ ورکس کے ناپاک عزائم کامیاب نہیں ہونے دیے جائیں گے اور ریلوے آپریشن معمول کے مطابق جاری رہے گا۔

دھماکے کے نتیجے میں انجن سمیت تین بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔ وزیر ریلوے نے واقعے کی فوری رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

اطلاعات کے مطابق دھماکے کی شدت سے زمین میں بڑا گڑھا پڑ گیا جبکہ قریبی مکانات، پلازوں اور 20 سے زائد گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

ریلوے کنٹرول روم کے مطابق یہ ایک شٹل ٹرین تھی جو کوئٹہ کینٹ اور ریلوے اسٹیشن کے درمیان چلتی ہے، جہاں سے اس کی بوگیاں جعفر ایکسپریس کے ساتھ منسلک کی جاتی ہیں۔

ٹرین سکھر، ملتان، لاہور اور پشاور جا رہی تھی۔

حکام کے مطابق الٹنے والی بوگی میں اب بھی کچھ مسافر پھنسے ہوئے ہیں جنہیں نکالنے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ بوگی کو سیدھا کرنے کے لیے کرین بھی موقع پر پہنچ چکی ہے۔

ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی اداروں کی ٹیمیں بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔

واقعے کے بعد سول ہسپتال، سی ایم ایچ اور دیگر طبی مراکز میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں اس سے قبل بھی ٹرینوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ اپریل 2025 میں جعفر ایکسپریس کو اغوا کر کے مسافروں کو یرغمال بنایا گیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے آپریشن کیا تھا۔ اس واقعے میں تقریباً 30 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی طرح نومبر 2024 میں کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر ایک خودکش دھماکے میں 25 افراد جان سے گئے تھے۔