عرب نیوز کے مطابق واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے ان خبروں کو مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ پاکستان پر ابراہم معاہدوں میں شمولیت کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کئی دہائیوں سے واضح اور مستقل ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک قبل از 1967 سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی اور القدس الشریف (مشرقی یروشلم) اس کا دارالحکومت نہیں بنتا۔ ان کے بقول یہی پاکستان کی سرکاری اور تاریخی پالیسی ہے، جس پر تمام حکومتیں عمل کرتی رہی ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کا مؤقف اصولی، مستقل اور غیر مبہم ہے، جبکہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی حمایت جاری رہے گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور دیگر مسلم ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں تعلقات معمول پر لانے کے وسیع تر عمل کے تحت ابراہم معاہدوں میں شمولیت پر غور کریں۔
Thank you to #TeamPakistan at the Embassy of Pakistan in Washington DC @PakinUSA, with Ambassador Rizwan Saeed Sheikh @AmbRizSaeed and his dedicated team for their support during my short but highly productive visit to DC.
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) May 29, 2026
Grateful as always to @ForeignOfficePk for their… pic.twitter.com/BMmQFDvk9Q
پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں ہیں۔ ملک میں فلسطینی کاز کی وسیع عوامی حمایت پائی جاتی ہے اور مختلف سیاسی و مذہبی جماعتیں فلسطینی مسئلے کے منصفانہ حل کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔
مبصرین کے مطابق اسحاق ڈار کے حالیہ بیان نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ فلسطین کے معاملے پر پاکستان کی پالیسی میں کسی تبدیلی کی گنجائش موجود نہیں اور اسلام آباد اپنے روایتی مؤقف پر قائم ہے۔







