ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت کو دہشت گردی کے معاملے پر واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنا ہوگا، زبانی یقین دہانیوں کے بجائے عملی اقدامات ہی اعتماد کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران افغان مہاجرین اور افغان طالبان کی مختلف ادوار میں میزبانی کی، ان کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض عناصر نے پاکستان ہی کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لیا، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہوئے۔

وزیر دفاع کے مطابق پاکستان بارہا افغان حکام کو یہ باور کرا چکا ہے کہ ان کی سرزمین کسی بھی صورت پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مختلف سطحوں پر ہونے والے سہ فریقی معاہدوں اور وعدوں پر مطلوبہ انداز میں عمل درآمد نہیں ہو سکا، جس کے باعث خطے میں امن و استحکام کے لیے درپیش چیلنجز برقرار ہیں۔

انہوں نے گفتگو کے اختتام پر کہا کہ پاکستان امن، استحکام اور بہتر ہمسایہ تعلقات کا خواہاں ہے، لیکن قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں، اس لیے ہر دعوے اور یقین دہانی کو عملی اقدامات کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا۔

دوسری جانب میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغان طالبان نے پس پردہ سفارتی رابطوں کے ذریعے پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو پاکستانی حدود کے اندر حملے نہ کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق کابل حکومت پاکستان کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ اسلام آباد کے سیکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور سرحد پار دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لیے اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ اعتماد صرف عملی نتائج کی بنیاد پر ہی قائم ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان خطے کی ایک اہم طاقت ہے، اپنے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کا مکمل حق رکھتا ہے: کایا کالس

پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت متعدد مواقع پر اس بات کا اعادہ کر چکی ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ حالیہ برسوں میں سرحد پار دہشت گرد حملوں میں اضافے کے بعد پاکستان نے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی پالیسی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات کا ہر سطح پر مؤثر جواب دیا جائے گا، خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق اپنے وعدوں پر عمل کریں اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔