ریلوے سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ریلوے نے مسافروں کی سہولت اور ریلوے اسٹیشنز کی بہتری کے لیے قابلِ ستائش اقدامات کیے ہیں، تاہم مستقبل کی ترقی کے لیے فریٹ سیکٹر پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ ریلوے کے جاری میگا منصوبوں میں مالی اور ادارہ جاتی انتظامات کی پیشگی منظوری کو یقینی بنایا جائے تاکہ منصوبوں کی تکمیل میں غیر ضروری تاخیر اور رکاوٹوں سے بچا جا سکے۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ ایم ایل-1 پروجیکٹ، ایم ایل-3 پروجیکٹ اور تھر کول ریل کنیکٹیویٹی پروجیکٹ سمیت اہم ریلوے منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی تعاون سے کام کریں۔
انہوں نے کہا کہ میگا منصوبوں کی معیاری اور بروقت تکمیل سے تعمیراتی لاگت میں کمی اور قومی وسائل کی بچت ممکن ہے۔ وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ بجٹ میں ریلوے کے بڑے منصوبوں کے لیے ضروری فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی اور سیکریٹری ریلوے نے مختلف اصلاحاتی اقدامات اور منصوبوں کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے
بریفنگ میں بتایا گیا کہ فریٹ سروس میں اصلاحات کے نتیجے میں رواں مالی سال جون تک پاکستان ریلوے کی آمدن 40 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے، جو ایک تاریخی ریکارڈ ہوگا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احسن اقبال، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔






