وزیراعلیٰ کی زیرِ صدارت منعقد ہونے والے ایک اہم اجلاس میں تعلیم، صحت اور امن و امان کے شعبوں میں اصلاحات سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا اور متعدد منصوبوں کی اصولی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں صوبے میں شرح خواندگی بڑھانے، اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام کا حصہ بنانے اور سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر اتفاق کیا گیا۔

وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیمی نظام کی بہتری ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے بعض دور افتادہ علاقوں میں آج بھی بچے فرش یا ٹاٹ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے مناسب صورتحال نہیں۔

انہوں نے واضح ہدایت جاری کی کہ تمام متعلقہ محکمے مقررہ مدت کے اندر اسکولوں کو ڈیسک فراہم کرنے کے عمل کو مکمل کریں، اگر مقررہ وقت گزرنے کے بعد کسی اسکول میں طلبہ کو ٹاٹ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے پایا گیا تو ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے اعلان کیا کہ وہ خود بھی تعلیمی اصلاحات پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے مختلف اضلاع کے اسکولوں کے اچانک دورے کریں گے، دور دراز اور دشوار گزار علاقوں کے اسکولوں کی صورتحال کا براہِ راست معائنہ کیا جائے گا تاکہ حکومتی پالیسیوں کے عملی نتائج سامنے آ سکیں۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے متعلقہ حکام نے بتایا کہ صوبے کے سینکڑوں اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی کا سامنا ہے، جس کے پیشِ نظر حکومت نے تمام فعال سرکاری اسکولوں کو مرحلہ وار بنیادوں پر ڈیسک اور دیگر ضروری فرنیچر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد طلبہ کو باوقار اور سہولت سے آراستہ تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے۔

 حکام کے مطابق  یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ صوبے کے 900 سرکاری اسکولوں میں ڈبل شفٹ نظام متعارف کرایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا سکیں، اس اقدام سے ان علاقوں میں خاص طور پر فائدہ ہوگا جہاں تعلیمی اداروں کی تعداد کم جبکہ طلبہ کی تعداد زیادہ ہے۔

 صوبے بھر کے تقریباً 3 ہزار سنگل روم اسکولوں میں اضافی کلاس رومز تعمیر کرنے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی کلاسوں کی تعمیر سے تدریسی سرگرمیوں میں آسانی پیدا ہوگی اور طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولتیں میسر آئیں گی۔

مزید پڑھیں: صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ملاقات، بجٹ تجاویز پر اتفاق

اجلاس میں پرائمری سطح پر یونیفارم کی شرط ختم کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا، اس اقدام سے ایسے خاندانوں کو ریلیف ملے گا جو معاشی مشکلات کے باعث بچوں کی تعلیم جاری رکھنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔

اسی طرح پرائمری اسکولوں میں مشترکہ بنیادی تعلیم کے تصور پر بھی بات چیت کی گئی، جس کے تحت ابتدائی جماعتوں میں بچے اور بچیاں ایک ہی تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ اس حوالے سے مجوزہ پالیسی آئندہ کابینہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

اجلاس کے دوران این سی ایچ ڈی اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافے، یکساں تعلیمی مواد کی فراہمی اور تدریسی معیار کو بہتر بنانے سے متعلق متعدد سفارشات کی بھی منظوری دی گئی،  ان اقدامات سے نہ صرف اساتذہ کی حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ تعلیمی نتائج میں بھی بہتری آئے گی۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں پہلی مرتبہ اصلاحات کا مرکز صرف عمارتوں کی تعمیر کو نہیں بلکہ طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی ماحول کو بنایا جا رہا ہے،  سرکاری اسکولوں میں ٹاٹ کلچر کا خاتمہ بچوں کی عزتِ نفس، اعتماد اور تعلیمی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اگر حکومت ان اعلانات پر تسلسل اور سنجیدگی سے عملدرآمد یقینی بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ اقدامات صوبے میں تعلیمی پسماندگی کے خاتمے، شرح خواندگی میں اضافے اور لاکھوں بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوں گے۔