تاہم آنے والے مالی سال کے وفاقی بجٹ اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے ابتدائی اشارے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے مختص وسائل اور زمینی حقائق کے درمیان ایک نمایاں فرق موجود ہے۔
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے لیے محدود فنڈز
حکومتی ذرائع اور ابتدائی دستاویزات کے مطابق اگلے مالی سال کے لیے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کو تقریباً 2.78 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز ملنے کی توقع ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق یہ رقم بظاہر بڑی دکھائی دیتی ہے، لیکن عملی سطح پر اس کا دائرہ کار انتہائی محدود ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہ رقم بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں، جیسے ہائی ویز یا میٹرو روڈز، کے صرف چند کلومیٹر کی لاگت کے برابر بھی نہیں بنتی۔
ضرورت اور حقیقت کے درمیان فرق
موسمیاتی پالیسی پر کام کرنے والے آزاد تھنک ٹینکس کا کہنا ہے کہ پاکستان کو صرف سیلاب سے تحفظ اور کلائمٹ ریزیلینٹ انفراسٹرکچر کے لیے سالانہ 3 سے 5 ارب امریکی ڈالر کی ضرورت ہے۔
اگر اس کا موازنہ موجودہ مجوزہ ترقیاتی بجٹ سے کیا جائے تو فرق کئی گنا زیادہ ہے، اور ماہرین کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ماحولیاتی شعبہ قومی ترجیحات میں ابھی بھی ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر "گرین پاکستان" کا بیانیہ
پاکستان عالمی سطح پر خود کو "گرین پاکستان" اور ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف ایک فعال ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے۔ حکومتی نمائندے اکثر بین الاقوامی فورمز پر موسمیاتی فنڈنگ، کاربن ریڈکشن اور کلین انرجی منصوبوں کے لیے تعاون کی اپیل کرتے نظر آتے ہیں۔
تاہم اندرونی پالیسی سازی اور بجٹ ترجیحات کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماحولیاتی شعبے کو درکار مالی وسائل اسی سطح پر فراہم نہیں کیے جا رہے جن کی عالمی سطح پر نمائندگی کی جاتی ہے۔
ترقیاتی ترجیحات پر سوالات
پالیسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ترقیاتی ماڈل میں اب بھی بنیادی توجہ روایتی انفراسٹرکچر، جیسے سڑکوں، پلوں اور شہری منصوبوں، پر مرکوز ہے، جبکہ کائمٹ اڈیدپٹیشن اور ڈیزاسٹر ریزیلینٹ جیسے شعبے نسبتاً کم توجہ حاصل کرتے ہیں۔
ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ہر بڑے سیلاب یا موسمی آفت کے بعد نقصان کا دائرہ وسیع ہو جاتا ہے اور بحالی پر بھاری اخراجات آتے ہیں۔
"پالیسی گیپ" یا ترجیحات کا مسئلہ؟
ماہرین اس صورتحال کو ایک "پالیسی گیپ" قرار دیتے ہیں، جس میں بین الاقوامی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کو تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن قومی سطح پر بجٹ کی تقسیم اس رفتار سے ہم آہنگ نہیں ہوتی۔
ایک ماحولیاتی تجزیہ کار کے مطابق، “اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان کو خطرات کا ادراک نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ترقی اور ترجیح کا پیمانہ ابھی تک تبدیل نہیں ہوا۔”
آگے کا راستہ
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر پاکستان موسمیاتی خطرات سے نمٹنا چاہتا ہے تو اسے اپنے ترقیاتی ماڈل میں بنیادی تبدیلی لانا ہوگی، خاص طور پر بجٹ سازی کے مرحلے پر۔
ان کے مطابق کلائمٹ فائنانس کو صرف بین الاقوامی امداد پر انحصار کے بجائے ملکی وسائل میں مرکزی حیثیت دینا ہوگی، ورنہ ہر سال آنے والی قدرتی آفات کا معاشی بوجھ بڑھتا رہے گا۔
پاکستان کے لیے سوال اب یہ نہیں کہ خطرہ کتنا بڑا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے وسائل کتنی سنجیدگی سے مختص کیے جا رہے ہیں۔






