سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر کی کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں اور نہ ہی انتخابات میں حصہ لینے کو تیار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایکشن کمیٹی 2023 میں سامنے آئی تھی اور ابتدا میں گندم پر سبسڈی اور بجلی کی پیداواری لاگت کے مطابق نرخ مقرر کرنے کا مطالبہ کر رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے مظفرآباد دھرنے کے بعد 30 ارب روپے کا پیکج دیا، 10 ارب روپے بجلی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے اور آزاد کشمیر میں 3 روپے فی یونٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جب کہ ملک کے دیگر حصوں میں صارفین 48 روپے فی یونٹ تک ادائیگی کر رہے ہیں۔

رانا ثنااللہ کے مطابق حکومت نے ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات میں سے 37 پر تحریری معاہدہ کیا، تاہم مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ آئینی اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث تسلیم نہیں کیا جا سکا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران ایکشن کمیٹی نے حلف نامے سے پاکستان سے الحاق کی شق ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ حکومت نے اس معاملے پر مختلف تجاویز پیش کیں، جن میں ریفرنڈم، آل پارٹیز کانفرنس اور قانون ساز اسمبلی میں معاملہ بھیجنا شامل تھا، تاہم کمیٹی نے تمام تجاویز مسترد کر دیں۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ کمیٹی نے 9 جون کو لانگ مارچ کا اعلان کیا، جب کہ آزاد کشمیر سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے کہ موجودہ اسمبلی مہاجرین کی نشستوں سے متعلق قانون سازی نہیں کر سکتی اور یہ نشستیں کسی انتظامی فیصلے سے بھی ختم نہیں کی جا سکتیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ مظاہرین نے فائرنگ کی اور صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کی، جب کہ بھارتی میڈیا بھی ان سرگرمیوں کو نمایاں کوریج دے رہا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان ہر قیمت پر آزاد کشمیر کے امن، استحکام اور تحفظ کو یقینی بنائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں اور قانون شکنی کرنے والوں سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

رانا ثنااللہ نے گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 65 فیصد ووٹرز نے حقِ رائے دہی استعمال کیا اور عالمی مبصرین نے انتخابات کو شفاف اور آزاد قرار دیا۔