شامی ڈکٹیٹر بشار الاسد اپنے خاندان کے 50 سالہ اقتدار کا سورج غروب ہونے کے بعد روس میں پناہ گزین ہے، مگر شام کے شہر حماۃ کے مکین 43 برس قبل کے وہ مناظر نہیں بھولے جب ان کا شہر لہو میں ڈبو دیا گیا تھا۔
انسانی حقوق سے متعلق اداروں کا اندازہ ہے کہ حماۃ پر اس وقت کے شامی صدر حافظ الاسد کی ہدایت پر ہونے والے حملے میں 10 سے 40 ہزار لوگ قتل کیے گئے۔ تقریبا دو تہائی شہر کو تباہ کر دیا گیا تھا۔
تاریخی طور پر دستیاب اعدادوشمار کے مطابق حماۃ شہر میں اسد خاندان کے حکم پر ہونے والے اس قتل عام کے وقت شہر کی آبادی تقریبا 250000 مردوخواتین پر مشتمل تھی۔ 27 روزہ حکومتی کارروائی کے اختتام پر کوئی خاندان ایسا نہیں بچا تھا جس کاکوئی نہ کوئی فرد اسد فورسز کے ہاتھوں قتل نہ ہوا ہو۔
شامی افراد کے مطابق اس خوں ریز کارروائی کے دوران اخوان المسلمون کے لوگوں اور دیگر سنی گروہوں نے حکومتی فورسز کی مزاحمت کی کوشش کی۔ مگر چند روز کے اندر ان سب کو مار دیا گیا۔ مسلسل آپریشن سے بچ جانے والے شامی مزاحمت کار برطانیہ، امریکہ، جرمنی، ایران سمیت دیگر ملکوں کی طرف فرار ہونے پر مجبور کر دیے گئے تھے۔

1982 کی کارروائی کے بعد زندہ بچ کر بیرون ملک جانے میں کامیاب ہونے والے ایک اخوانی کارکن ابو تمیمہ کے مطابق بارودیہ نامی قصبہ مزاحمت کاروں کا مرکز تھا جس پر اسد فورسز نے سب سے پہلے قبضہ کیا اور تباہی ڈھائی۔
ان کے مطابق ‘مزاحمت کے خلاف فوری کامیابی کے باوجود اسد فورسز نے کئی دنوں تک کارروائی جاری رکھی، عام شہریوں کا قتل عام کیا جن کا اخوان المسلمون سے کوئی تعلق بھی نہ تھا۔
متاثرین کے مطابق حافظ الاسد کی فورسز نے شامی ماؤں کی گودوں سے ان کے شیرخوار بچے چھینے، بندوقوں کے بٹ مار کر معصوم جانیں لیں مگر انہیں ذرا رحم نہیں آیا تھا۔
ایک اور شامی خانی کے مطابق ان کے والد بھی قتل ہونے والے افراد میں شامل تھے۔ فرانس سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آنکھوں کے معالج کے طور پر کام کرنے والے شامی شہری کو اسد فورسز نے گرفتار کیا اور قریبی فیکٹری میں لے جا کر ان کی آنکھیں نکال دی گئیں، اس کے بعد انہیں مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔
عرب میڈیا سے کی گئی گفتگو میں خانی کا کہنا تھا کہ شام میں مقیم سنی مسلمانوں کے خلاف اسد فورسز کی یہ درندگی ماضی کا قصہ نہیں بلکہ اب بھی ان کا طریقہ واردات یہی تھا۔
خانی کا کہنا تھا کہ 48 برس قبل ہونے والے قتل عام اور اپنے والد کے قتل کے خلاف اگر انہوں نے چند ماہ پہلے تک کوئی شکایت کی ہوتی تو ان کا حشر بھی والد جیسا ہونا تھا۔
یاد رہے کہ حماۃ کا شہر دسمبر 2024 میں اسد فورسز کے قبضے سے اس وقت آزاد ہوا جب ہیئۃ تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) ودیگر گروہوں نے بشارالاسد کو بےدخل کر کے شام کا اقتدار سنبھالا ہے۔
خانی کے مطابق ‘انہیں اور کئی دیگر افراد کو مجبور کیا گیا کہ وہ یہ کہیں کہ سویلینز کو اخوانی کارکنوں نے قتل کیا ہے۔’
‘ اسد چاہتا تھا کہ پورے حماۃ کو مزاحمت کی سزا دی جائے۔ ہمارے ذریعے وہ پورے شام کو یہ پیغام دینا چاہتا تھا کہ کوئی مزاحمت نہ کرے اور ایسا ہی ہوا، 30 برس تک کوئی کھڑا نہیں ہو سکا۔

1982 میں بدترین قتل عام سہنے والے حماۃ شہر میں تقریبا 30 برس بعد پہلا احتجاج 2011 میں ہوا۔ مسجد عمر بن خطاب سے نکلنے والے جلوس کے شرکا نے حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے اسد رجیم سے جان چھڑانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ یہ اسد خاندان کے لیے کئی دہائیوں بعد پہلا چیلنج تھا۔
یہ وہی مسجد تھی جسے اسد فورسز نے حملہ کے وقت جیل میں بدل دیا تھا۔ خواتین اور بچوں کو یہاں قید کر کے ان کے مردوں کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ یہاں محبوس بچوں اور خواتین کو کہا گیا کہ باہر نکلنے پر وہ اپنے مردوں کے زندہ ملنے کی امید نہ رکھیں اور ایسا ہی ہوا بھی۔
خانی کے مطابق وہ رہا ہونے کے بعد علاقہ چھوڑ کر چلے گئے، کچھ عرصہ بعد واپس آئے تو ان کی کلاس میں کوئی ایسا بچہ نہ تھا جس کے والد کو اسدی فورسز نے شہید نہ کر دیا ہو۔
27 روزہ فوجی آپریشن مکمل کرنے کے بعد اس وقت کے شامی ڈکٹیٹر حافظ الاسد کا کہنا تھا کہ ‘حماۃ میں جو ہونا تھا ہو چکا، اب سب ختم ہو گیا ہے۔’
تاہم جدید تاریخ میں فلسطین کے سوا کسی بھی شہری علاقے میں ہونے والے اس بدترین قتل عام میں ‘سب ختم نہیں ہوا’ بلکہ پیچھے بچ جانے والے آج بھی وہ لمحے یاد کر کے کانپ اٹھتے ہیں۔
گزشتہ 43 برسوں کے سینے میں چھپے یہ سارے واقعات حماۃ کے مکینوں کے لیے تو نئے نہیں، لیکن دو فروری کی تاریخ نے موقع پیدا کیا ہے کہ باقی دنیا بھی اس بھیانک قتل عام اور اس کے ذمہ داروں کو یاد رکھے۔ اتنا ہی نہیں حماۃ میں گزری قیامت کے بچ جانے والے متاثرین کو بھی یاد رکھا جائے۔
حماۃ میں کیا ہوا تھا؟
‘حماۃ قتل عام’ کے نام سے معروف واقعہ دو فروری 1982 کو شامی ڈکٹیٹر حافظ الاسد کے حکم پر میجر جنرل رفعت الاسد نے کارروائی کی تھی۔
حماۃ شہر کی تنگ گلیوں میں ٹینک دوڑائے گئے۔ 27 روز تک جاری رہنے والی کارروائی میں شامی فوج، پیراملٹری فورسز، علوی ملیشیا اور بعثی حکومت کے دیگر یونٹس نے اخوان المسلمون کی قیادت میں ہونے والی مزاحمت کو نشانہ بنایا تھا۔
1976 سے علاقے کے سنی گروہ اسد حکومت کے مظالم کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ جسے ختم کرنے کے لیے سنی مسلمانوں کے خلاف یہ کارروائی کی گئی۔
آپریشن سے قبل حافظ الاسد کے حکم پر شہر کو محاصرے میں لے کر بند اور بیرونی دنیا سے منقطع کر دیا گیا تھا۔
میڈیا بلیک آؤٹ کیا گیا، تمام مواصلات کو ختم، کئی ماہ تک جلی اور کھانے کی ترسیل بھی روک دی گئی تھی۔
مغربی ملکوں کے سفارتکاروں نے اپنے ابتدائی خطوط میں بتایا کہ ایک ہزار لوگ قتل کیے گئے ہیں تاہم بعد میں رابرٹ فسک اور دیگر غیرملکی صحافیوں، سیرین ہیومن رائٹس کمپیٹی نے مقتولین کی تعداد 20 سے 40 ہزار بتائی۔

حملے کے وقت علاقے میں موجود غیرملکی صحافی رابرٹ فسک کے مطابق ‘علاقے پر بلاتفریق بمباری کی گئی، جس سے بیشتر شہر تباہ ہو گیا۔ مقتولین کی اکثریت عام افراد پر مشتمل تھی۔’
کیمبرج یونیورسٹی پریس سے شائع ہونے والی کتاب ‘اینڈ گیم، عرب دنیا میں احتجاج کا عسکری جواب’ کے مصنف ہشام بوناصف کے مطابق ‘یہ نسل کشی فرقہ ورانہ عزائم رکھتی تھی، جس میں حماۃ کی سنی آبادی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔’
بشار الاسد کے والد کے حکم پر ان کے چچا کی قیادت میں ہونے والے حملے کے دوران حماۃ کے 20 ہزار لوگ لاپتہ ہوئے، جن کا آج بھی کوئی علم نہیں۔ اس دوران شہر کے ایک لاکھ مکینوں کو بےدخل ہونا پڑا۔
انسانی حقوق سے متعلق اداروں کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ ‘کارروائی کے دوران قتل کیے گئے مردوخواتین کی لاشیں کھلے آسمان تلے چھوڑ دی گئیں جنہیں آوارہ کتے بھنبھوڑتے رہے۔ ان کتوں کو انسانی خون وگوشت کی ایسی عادت ہوئی کہ واقعہ کے دو برس بعد تک یہ کسی کو بھی کاٹ کھاتے تھے۔ شہری انتظامیہ نے بڑی مشکل سے آنے والے دو برسوں میں انہیں ختم کیا تھا۔’
ایسی ہی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا کہ حافظ الاسد کے بھائی کی سربراہی میں زمینی حملہ شروع ہوا تو مساجد، چرچ، تعلیمی ادارے بلاتفریق تباہ کیے گئے۔ جو بچ رہے انہیں عقوبت خانوں میں بدل دیا گیا۔
شامی شہر کے خوفناک ماضی کو 43 برس گزر چکے ہیں، اسد خاندان کی ڈکٹیٹر شپ سے شام محفوظ ہو چکا ہے۔ اب بھی حماۃ کے مکین ‘انصاف کے انتظار’ میں ہیں۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ ‘مشکل ختم ہونے پر سمجھ نہیں آتا کہ جشن منائیں، یا جانے والوں کا ماتم کریں۔”