مسقط ایکشن پلان کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے سلطنت عمان، اقوام متحدہ کے خصوصی مشیر برائے نسل کشی کی روک تھام کے دفتر اور پیس میکرز نیٹ ورک کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کی تیاری اور تکمیل عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے ایک قابلِ قدر پیش رفت ہے۔

عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی معزز شخصیات، قبائلی عمائدین، مذہبی رہنماؤں اور مقامی قیادت کے نمائندوں کی آرا کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشروں میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مقامی سطح پر بااثر شخصیات کا کردار ہمیشہ بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نفرت انگیز بیانات، تعصب، امتیازی رویے اور نسل کشی جیسے سنگین جرائم کی ترغیب صرف ایک وجہ کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ ان کے پس منظر میں متعدد سماجی، سیاسی اور معاشی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ اسی لیے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی، عالمی تعاون اور مقامی سطح پر مؤثر قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔

پاکستانی سفیر  نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں قبائلی عمائدین، سردار، بزرگ اور مقامی رہنما صدیوں سے تنازعات کے حل، مصالحت اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ آج بھی یہ شخصیات اپنے اپنے معاشروں میں امن قائم کرنے، کشیدگی کم کرنے اور انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسقط ایکشن پلان کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مقامی اور روایتی قیادت کے اثر و رسوخ اور سماجی اعتماد کو استعمال کرتے ہوئے نفرت انگیز تقاریر اور تشدد پر اکسانے کے رجحانات کے خلاف ایک مضبوط اور دیرپا نظام تشکیل دینے کی کوشش کرتا ہے۔

عاصم افتخار احمد کے مطابق یہ منصوبہ حکومتوں اور ریاستی اداروں کی موجودہ کوششوں کو مزید تقویت فراہم کرے گا اور ایسے معاشروں کی تشکیل میں مدد دے گا جہاں انصاف، مساوات، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ حاصل ہو۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی حالات میں عدم برداشت، مذہبی تعصب، نسلی امتیاز اور سماجی تقسیم کے رجحانات میں اضافہ تشویش کا باعث ہے۔ ایسے ماحول میں بین الاقوامی برادری کو مشترکہ طور پر ایسے اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے جو معاشروں کو انتہاپسندی اور نفرت کے اثرات سے محفوظ بنا سکیں۔

پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کی جانب سے نفرت انگیز تقاریر اور نسل کشی پر اکسانے کے رجحانات کے سدباب کے لیے جاری کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ ایسے اقدامات کا حامی رہا ہے جو مختلف ثقافتوں، مذاہب اور قومیتوں کے درمیان احترام اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی شراکت داروں، اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر امن، برداشت، مساوات اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی اور عملی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک زیادہ محفوظ اور پرامن دنیا فراہم کی جا سکے۔