قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کی جانب سے اٹھائے گئے تمام نکات کو غور سے سنا ہے اور مناسب موقع پر ان کا تفصیلی جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایوان کے تمام منتخب ارکان پاکستان کے مختلف صوبوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور سب کا احترام ضروری ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ صوبوں کے وسائل پر ان کا حق ہے اور اس حوالے سے کوئی اختلاف نہیں۔ انہوں نے ریکوڈک معاہدے کو وفاق اور بلوچستان کے درمیان مشاورت کی ایک کامیاب مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کو اس منصوبے میں نمایاں حصہ دیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا جب کہ پنجاب نے بھی اپنے حصے سے سالانہ 11 ارب روپے بلوچستان کو دیے۔ یہ کسی پر احسان نہیں بلکہ قومی یکجہتی اور بھائی چارے کی مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کے کسانوں کے لیے 70 ارب روپے کے سولر پینل منصوبے میں 50 ارب روپے فراہم کیے، جب کہ گوادر سے چمن تک دو رویہ شاہراہ کی تعمیر پر 300 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں تاکہ تمام صوبے ترقی کے سفر میں برابر کے شریک ہوں۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کو دہرایا کہ وہ آئین، قانون اور جمہوریت کے فروغ کے لئے اپوزیشن سے بات چیت کے لئے تیار ہیں. وزیرِ اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہماری سکیورٹی فورسز اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہی ہیں،ہمیں اپنی… pic.twitter.com/FOK1KRs2Fm
— Prime Minister s Office (@PakPMO) June 13, 2026
وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہی ہیں اور اس دوران افسران اور جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔
انہوں نے حالیہ ہیلی کاپٹر حادثے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے اہل خانہ، خصوصاً بچوں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور پوری قوم کو ان کی قربانیوں کا احترام کرنا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگر آج قومی اتحاد اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ انہوں نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آئین، قانون اور جمہوریت کے استحکام کے لیے مذاکرات کے لیے آج بھی تیار ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ماضی میں انہوں نے بطور قائد حزب اختلاف "میثاقِ معیشت" کی تجویز دی تھی، تاہم اسے قبول نہیں کیا گیا، لیکن حکومت آج بھی قومی مفاد میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھ کر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے تیار ہے۔






