انہوں نے اپنے سوشل اکاونٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ملک کے عوام پہلے ہی شدید مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں پٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکسوں اور لیویز نے عوام کی زندگی مزید دشوار بنا دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی کافی نہیں ہوگی بلکہ حکومت کو فوری طور پر پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر تک لانے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات پاکستانی عوام تک منتقل کیے جانے چاہئیں۔
امیر جماعت اسلامی نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ معاہدے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، اس لیے حکومت کے پاس پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کرنے کا جواز موجود ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں لیوی اور دیگر محصولات کی مد میں بھاری رقم وصول کر رہی ہے، جس کے باعث عوام کو عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی کا حقیقی فائدہ نہیں پہنچ رہااور مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی میں فوری کمی کی جائے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صرف پٹرول ہی نہیں بلکہ بجلی اور گیس کے نرخ بھی کم کیے جائیں تاکہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے شہریوں کو کچھ سہولت مل سکے، متوسط اور کم آمدنی والے طبقے مسلسل بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے تجویز دی کہ پٹرول کی قیمتوں کو کم از کم تین سال کے لیے منجمد کیا جائے تاکہ عوام اور کاروباری طبقے کو معاشی استحکام میسر آسکے، بار بار قیمتوں میں ردوبدل سے نہ صرف عوام متاثر ہوتے ہیں بلکہ صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ملک بھر کیلئے بجلی 82 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست جمع
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر غریب اور متوسط طبقہ کب تک حکومتی محصولات اور مالی بوجھ برداشت کرتا رہے گاے، عوام کو ریلیف دینا ریاست کی ذمہ داری ہے اور حکومت کو اس حوالے س فوری اور مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔
انہوں نے عوام بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ 19 جون کو ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کریں اور مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں اور بڑھتے ہوئے یوٹیلیٹی بلز کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔
جماعت اسلامی کے مطابق ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا مقصد حکومت کو عوامی مشکلات سے آگاہ کرنا اور پٹرول، بجلی و گیس کی قیمتوں میں کمی کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔







