یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے آج اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پربطور ثالث دستخط کیے،  امریکی صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی  معاہدے پر دستخط کردیے، وزیراعظم شہباز شریف کو آج وفد کے ساتھ سوئٹزرلینڈ روانہ ہونا تھا تاہم ان کا یہ دورہ منسوخ ہوگیا۔

اس سے قبل ایران اور امریکا کے درمیان تاریخی اسلام آباد امن معاہدے پر دستخط کے بعد وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن، دوطرفہ تعلقات اور مستقبل کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم آفس کے مطابق صدر پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کو فون کیا اور دونوں رہنماؤں کے درمیان تیس منٹ سے زائد گفتگو ہوئی۔ اسلام آباد امن معاہدے پر دستخط کے بعد یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلا رابطہ تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے صدر پزشکیان، ایرانی قیادت اور ایرانی عوام کو معاہدے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی پیش رفت نہ صرف خطے میں امن و استحکام کے قیام میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ ایران کی تعمیرِ نو اور پاکستان و ایران کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے لیے بھی نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ پاکستان ایک برادر اور ہمسایہ ملک کی حیثیت سے ایران کی حمایت جاری رکھے گا۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایرانی قوم کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں نے ثالثی کے عمل کو کامیاب بنانے میں انتہائی اہم اور مثبت کردار ادا کیا۔

 انہوں نے کہا کہ ایران مشکل وقت میں پاکستان کی تعمیری سفارتی کوششوں کو ہمیشہ یاد رکھے گا۔

صدر پزشکیان نے پاکستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔