ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ امریکا میں مقیم پاکستانی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں، جب کہ پاکستان اس وقت کئی شعبوں میں اپنی تاریخ کے بہترین مواقع سے گزر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے معرکۂ حق کے نتیجے میں پاکستان کو جو عزت و وقار عطا کیا، وہ گزشتہ کئی دہائیوں میں حاصل نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی جنگوں کا حساب پاکستان نے دشمن سے اس انداز میں لیا کہ اسے جنگ بندی کے لیے امریکا کی مدد حاصل کرنا پڑی۔

احسن اقبال نے کہا کہ 2025 میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج نے انڈیا کو مؤثر اور منہ توڑ جواب دیا۔ ان کے بقول، پاکستانی افواج نے دشمن کے طیاروں کو مرغابیوں کی طرح شکار کیا۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ حالیہ عرصے میں پاکستان کو سفارتی سطح پر جو عزت ملی، وہ ملکی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈیا بھی اس وقت یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کاش یہ سفارتی کامیابی اس کے حصے میں آتی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے مؤثر سفارت کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکا اور ایران کو میدانِ جنگ سے مذاکرات کی میز تک لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے شعلے نہ بجھتے تو خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی تھی، جس کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوتا اور غریب عوام پر اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے۔