تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ورسک روڈ (رنگ روڈ فیز ٹو) فلائی اوور منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ 800 میٹر طویل اس فلائی اوور پر 3.2 ارب روپے لاگت آئے گی، جب کہ یہ پشاور ری وائیٹلائزیشن پلان کے تحت تعمیر ہونے والا سب سے بڑا فلائی اوور ہوگا، جسے 180 روز میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ ہر ہفتے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کر رہے ہیں اور پشاور میں 200 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ انہوں نے پشتو میں پشاور کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "پیخور خو پیخور دے کنہ"۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ماضی میں بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کی وجہ سے 80 ہزار افراد دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج قبائلی اضلاع اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی ریاست کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا کو تجربہ گاہ بنایا گیا اور پختونوں کو نظرانداز کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2026 اور 2027 خیبرپختونخوا میں امن اور ترقی کے سال ہوں گے اور اب صوبے کے عوام بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں کو تسلیم نہیں کریں گے۔
انہوں نے عدلیہ اور وفاقی حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں انصاف کے حصول کے لیے کوششیں کی گئیں، تاہم اب احتجاج ان کا آئینی حق ہے۔
سہیل آفریدی نے سیکیورٹی اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ احتجاج کا حق استعمال کریں گے اور اگر مظاہرین پر گولی چلائی گئی تو یہ قابل مذمت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر قربانی دینی پڑی تو وہ خود سب سے آگے ہوں گے۔
انہوں نے وفاقی حکومت پر خیبرپختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو بجلی اور گیس کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے، جب کہ لوڈشیڈنگ جان بوجھ کر مسلط کی جا رہی ہے۔







