نجی نشریاتی ادارے اے آر وائی نیوز کے نجی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا ہے کہ انڈیا کوئی بھی جارحیت کرے گا تو اس کا بھرپور جواب دیں گے، انڈیا نے اب کوئی غلطی کی تو اب ہم یقیناً ردِعمل دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کو عزت و آبرو کے ساتھ افغانستان بھیج رہے ہیں، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر نظرِ ثانی کریں گے، ہم افغانستان کے ساتھ مستقل حل چاہتے ہیں۔ امید ہے کہ استنبول مذاکرات میں تمام معاملات میں بات ہوگی، جن میں کالعدم ٹی ٹی پی، تجارت، افغان مہاجرین کی واپسی اور دیگر معاملات شامل ہیں۔

وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ استنبول مذاکرات میں کامیابی ہوئی تو اچھی بات ہے، معاہدہ ہونے کے بعد ایسا نہیں ہے کہ سب معمول پر آگیا ہے، دونوں جانب سے رویوں میں تبدیلی آئی ہے اور اسی کے مطابق چلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کو اب سیٹ ہونا ہے جوکہ ماضی میں نہیں ہوئیں، افغانستان کے ساتھ تعلقات میں تلخی کوئی نئی بات نہیں، ماضی میں افغانستان کے ساتھ مختلف ادوار میں تلخیاں رہی ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ایسا نہیں کہا جاسکتا کہ افغانستان کے ساتھ سب اچھا ہوگیا ہے، ہمیں محتاط رہنا ہوگا، جنگ بندی معاہدے ہر محتاط امید ہے، آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے، اٹک پر زنجیر لگانے والے دیکھیں، آج طورخم پر زنجیر لگی ہوئی ہے، 1974 کے بعد افغانستان پاکستان کو تسلیم کرنے والا آخری ملک تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 1950 میں افغانستان نے جارحیت کی اور اس کے بعد مزید دو حملے کیے، ماضی میں ہمارے اچھے تعلقات رہے، ٹریڈ بھی جاری رہی، کسی سطح پر بھی یہ صورتحال نہیں رہی کہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بنیں۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ افغان طالبان رجیم نے اختلافات گزشتہ حکومت سے لیے اور ان میں مذہب کا عنصر شامل کیا، مذہب کا عنصر شامل ہوا ہے تو اس میں شدت پسندی آگئی ہے، افغان طالبان رجیم نے ساری جنگ مذہب کے نام پر لڑی ہے، افغان طالبان رجیم کے اپنے اندر بھی بہت سے اختلافات ہیں، قندھار اور کابل میں اختلافات کھل کر سامنے آرہے ہیں۔

دوسری جانب الجزیرہ عربیہ کوانٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے تصدیق کی کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد دونوں ممالک میں جاری دہشتگردی کے مسئلے کا خاتمہ ہے۔

خواجہ آصف نے امیرِ قطر، ترک صدر اور ترک وفد کے سربراہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قطر اور ترکی کی موجودگی اس معاہدے پر بذات خود ضمانت ہے، دونوں ممالک نے تسلیم کیا ہے کہ دہشتگردی ہی سرحدی کشیدگی کی اصل وجہ ہے، جس پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی برسوں سے پاکستان، افغانستان کےسرحدی علاقوں کو متاثر کررہی ہے، گزشتہ ہفتے دہشت گردی کا مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست جھڑپ تک پہنچ گیا تھا، دونوں ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دہشت گردی کا فوری خاتمہ ضروری ہے۔

وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک دہشت گردی کے تدارک کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں گے ورنہ خطے کےامن کو خطرات لاحق ہوں گے ، یہ معاہدہ بنیادی طورپر قطر اور ترکیہ کی ثالثی سے ہوا ہے تاہم معاہدے کی تفصیلات کوحتمی شکل دینے کیلئے ایک اوراجلاس آئندہ ہفتے استنبول میں ہوگا، جہاں معاہدے کی تفصیلات پر اتفاق کیا جائے گا۔

خواجہ آصف نے مزید بتایا کہ افغان وزیر دفاع نے تسلیم کیا دہشت گردی ہی تناؤ کی اصل وجہ ہے جس پر قابو پایا جائے گا اور مؤثر طریقہ کار واضح کیاجائے گا تاکہ دونوں ممالک میں موجودہ مسائل کوحل کیا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ سالوں میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان اٹھایا ہے ، امید ہے اب امن لوٹے گا اور پاکستان، افغانستان کے تعلقات معمول پرآجائیں گے۔

پاک افغان تجارت کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ پاک افغان تجارت اور ٹرانزٹ بھی دوبارہ شروع ہوگی، افغانستان پاکستانی بندرگاہ استعمال کرسکے گا، جن افغان مہاجرین کے پاس قانونی ویزے اور کاغذات ہیں وہ پاکستان میں رہ سکیں گے تاہم افغان مہاجرین کی بڑی تعداد ایسی ہے، جس کے پاس دستاویز نہیں اس لئے واپسی جاری رہے گی۔

انہوں نے مزید کہا پاک افغان بارڈر کا استعمال بھی باضابطہ ہونا چاہیے جیسا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں ہوتا ہے، خدشات کے خاتمے کے حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے کہ ہم 100 فیصد مطمئن ہیں، ہمیں آنے والے ہفتوں اورمہینوں میں دیکھنا ہوگا کہ معاہدے پر کتنا عمل ہوتا ہے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان صدیوں سے ہمسائے ہیں، جغرافیہ بدلا نہیں جا سکتا،امید ہے معاہدے کے بعد دونوں ممالک اچھے تعلقات کیساتھ آگے بڑھ سکیں گے، برادرممالک قطر،ترکی کی موجودگی نے ہمیں اعتماد دیا ہے ہم ان کے شکر گزار ہیں۔