اپریل 6, 2025 4:59 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

چین کا ‘میڈ اِن چائنہ 2025’ منصوبہ: عالمی مارکیٹ میں مغربی غلبے کو چیلنج کرتی ہوئی چینی ٹیکنالوجی کی اجارہ داری

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک
چین کی حکومت نے خود انحصاری کے ذریعے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ وہ عالمی مارکیٹ میں کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے (فائل فوٹو / گوگل)

چین کا ’میڈ اِن چائنہ 2025‘ منصوبہ صرف ایک خواب نہیں رہا، بلکہ اس نے دنیا کے اقتصادی منظرنامے کو جتھوں میں تبدیل کر دیا ہے۔

ایک وقت تھا جب چین کی مصنوعات کو ناتجربہ کار اور غیر معیاری سمجھا جاتا تھا مگر اب چین نے دنیا کے سامنے ایسی ٹیکنالوجیز پیش کی ہیں جو عالمی سطح پر سب سے زیادہ مانگ میں ہیں۔

2015 میں چین نے اپنا ’میڈ اِن چائنہ 2025‘ منصوبہ متعارف کرایا تھا جس کا مقصد عالمی مارکیٹ میں چین کی مصنوعات کا معیار اتنا بلند کرنا تھا کہ وہ ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شامل ہو جائے۔

اس منصوبے نے چین کو مصنوعی ذہانت، الیکٹرک گاڑیوں، کوانٹم کمپیوٹنگ، اور ڈرون ٹیکنالوجی میں شاندار کامیابیوں سے ہمکنار کیا ہے۔

چین کی حکومت نے اس کے لئے سرمایہ کاری کی تو وہ بھی ناقابل یقین حد تک اور اس منصوبے کے ذریعے چین نے عالمی مارکیٹ میں اپنے قدم جمانا شروع کر دیے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آج چین دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے والی مارکیٹ بن چکا ہے اور اس کی بیٹری ٹیکنالوجی دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال کی جاتی ہے۔

چین دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے والی مارکیٹ بن چکا ہے
(فائل فوٹو/ گوگل)

یہاں تک کہ چین کا سولر پینلز کے میدان میں تقریباً 80 سے 95 فیصد عالمی سپلائی پر کنٹرول ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ چین اب دنیا کے ہر کونے میں توانائی کے متبادل ذرائع میں سب سے بڑا سپلائر بن چکا ہے۔

چین کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں اس کا شاندار پھیلاؤ ہے جس کی نمایاں مثال ’ڈیپ سیک‘ ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چین کا یہ چیٹ بوٹ دنیا بھر میں تہلکہ مچا چکا ہے اور امریکا کے لیے ایک بڑا دھچکہ ثابت ہوا ہے۔

چین کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں اس کا شاندار پھیلاؤ ہے
(فائل فوٹؤ/ گوگل)

اگرچہ امریکا دنیا میں مصنوعی ذہانت میں آگے ہے مگر چین نے اپنے کم قیمت اور طاقتور ٹیکنالوجیز کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ بھی دنیا کے ٹیکنالوجی کے منظرنامے میں ایک اہم کھلاڑی ہے۔

چین کے ’میڈ اِن چائنہ 2025‘ منصوبے کی کامیابی نے مغرب کے کئی ممالک کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔

امریکا اور دیگر مغربی ممالک چین کی ترقی کو روکنے کے لئے مختلف پابندیاں عائد کر چکے ہیں مگر ان پابندیوں کے باوجود چین نے اپنے ٹیکنالوجی کے میدان میں مزید ترقی کی ہے۔

لازمی پڑھیں: پاکستان کا آئی ایم ایف سے تعلق، عارضی استحکام یا پھر معاشی خودکشی؟

دوسری جانب چین کی حکومت نے خود انحصاری کے ذریعے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ وہ عالمی مارکیٹ میں کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

چینی حکومت نے اس منصوبے کے تحت 250 سے زائد چھوٹے اہداف طے کیے تھے جن میں سے 86 فیصد اب تک مکمل ہو چکے ہیں۔

ان اہداف کی کامیابی کا راز چین کے ریاستی حمایت یافتہ سرمایہ داری ماڈل میں پوشیدہ ہے۔ چین نے نہ صرف اپنے اندرونی وسائل کو بروئے کار لایا، بلکہ عالمی سطح پر غیر ملکی کمپنیوں اور ہنر مندان کو اپنی جانب راغب کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔

اب تک چین نے صرف 1.5 ٹریلین ڈالر سے زائد رقم تحقیق و ترقی اور غیر ملکی کمپنیوں کو خریدنے میں خرچ کی ہے جس کے نتائج دنیا کے سامنے آ چکے ہیں۔

چائینہ عالمی مارکیٹ میں کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
(فائل فوٹو/ گوگل)

مگر اس کامیابی کے باوجود چین نے اپنے ’میڈ اِن چائنہ‘ منصوبے کی اصطلاح کو بند کر دیا ہے کیونکہ اس سے مغربی ممالک میں چڑھائی کی صورت پیدا ہو رہی تھی۔

چین کا یہ منصوبہ اتنا کامیاب ثابت ہوا کہ مغرب نے ٹیکنالوجی کی ترسیل کو روکنے کی کوشش کی خاص طور پر مائیکروچپ اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں۔

تاہم، ان پابندیوں نے چین کو مزید آگے بڑھنے کی تحریک دی، اور اب چین نے ڈیپ سیک کی شکل میں ایسا چیٹ بوٹ تیار کیا ہے جو امریکا کی بہترین مصنوعی ذہانت کمپنیوں کے لیے ایک ویک اپ کال بن چکا ہے۔

چین کا یہ پلان اتنی تیزی سے کامیابی کے مراحل طے کر رہا ہے کہ مغربی دنیا کو ابھی تک یہ سمجھنے کا موقع نہیں ملا کہ چین نے کس طرح سے دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی پاور بننے کا سفر طے کیا ہے۔

اگرچہ امریکا ابھی بھی مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ میں سب سے آگے ہے مگر چین نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی میدان میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنی حیثیت قائم کرنے کے لیے تیار ہے۔

آج کے دور میں چین نہ صرف اپنے اندرونی وسائل پر اعتماد کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی ٹیکنالوجی کی بالادستی ثابت کر چکا ہے۔

’میڈ اِن چائنہ 2025‘ منصوبہ دراصل چین کی عالمی سطح پر قیادت کا آغاز تھا اور یہ سفر ابھی تک جاری ہے۔

اب چین کے لیے صرف ایک ہی سوال باقی ہے کیا دنیا اس نئی چینی بالادستی کو تسلیم کرے گی؟

مزید پڑھیں: پاکستان اور بھارت کے درمیان باسمتی چاول کی تاریخی کشمکش: ایک ورثہ، جو عالمی مانگ کے ساتھ بقاء کے خطرات کا سامنا کر رہا ہے

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس