ڈان نیوز کے مطابق پہلی پرواز آج اسلام آباد سے 350 مسافروں کو لے کر مانچسٹر روانہ ہوگی۔

پہلی پرواز کی روانگی سے قبل ہی برطانیہ کے لیے تین ماہ کی ایڈوانس بکنگ مکمل ہوچکی ہے۔ اس موقع پر اسلام آباد اور مانچسٹر دونوں ایئرپورٹس پر تقریب منعقد ہوگی، جس میں وزیرِ ہوا بازی خواجہ آصف، یورپی یونین اور برطانیہ کے سفیروں سمیت دیگر اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔

ترجمان پی آئی اے کے مطابق پہلے مرحلے میں اسلام آباد سے مانچسٹر کے لیے ہفتے میں دو پروازیں چلائی جائیں گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں لاہور اور کراچی سے بھی پروازوں کا آغاز کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پی آئی اے نے 4 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ وہ برطانیہ کے لیے فلائٹ آپریشن دوبارہ شروع کر رہی ہے۔

قومی ایئرلائن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ’’انتظار ختم ہوا، پی آئی اے فخر کے ساتھ مانچسٹر اور اسلام آباد کو دوبارہ جوڑ رہی ہے‘‘۔

خیال رہے کہ 22 مئی 2020 کو کراچی میں پی آئی اے کی پرواز کے حادثے کے بعد جون 2020 میں یورپی یونین، برطانیہ اور امریکا نے پی آئی اے پر پروازوں کی پابندی عائد کر دی تھی۔

یہ فیصلہ اُس وقت کے وزیرِ ہوا بازی غلام سرور خان کے بیان کے بعد کیا گیا تھا، جنہوں نے 262 پائلٹس کے لائسنس مشکوک قرار دیے تھے۔

یورپی یونین نے نومبر 2024 میں پی آئی اے پر عائد پابندی ختم کی تھی، جبکہ جولائی 2025 میں برطانیہ نے پاکستان کو اپنی ’ایئر سیفٹی لسٹ‘ سے نکال کر پاکستانی ایئرلائنز کو پروازوں کی اجازت دے دی تھی۔

برطانوی محکمہ ٹرانسپورٹ نے اسلام آباد ایئرپورٹ کے حفاظتی انتظامات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق قرار دیتے ہوئے سیکیورٹی معائنہ بھی تسلی بخش قرار دیا تھا۔