اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں الخدمت بنو قابل انٹری ٹیسٹ کے موقع پر جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے نوجوانوں، اساتذہ اور شہریوں سے بھرے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان صلاحیتوں سے مالا مال ہے، مگر حکمرانوں کی غلط پالیسیوں نے نوجوانوں کو پیچھے دھکیل رکھا ہے۔ تعلیم خیرات نہیں بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
تقریب میں صدر فاؤنڈیشن پاکستان ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن، چیئرمین بنو قابل پروگرام علی بیک، اور سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی اسلام آباد زبیر صفدر بھی شریک تھے۔
خطاب کے آغاز میں حافظ نعیم نے پروگرام کے منتظمین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ فری اسکالرشپ پروگرام صرف کورسز نہیں بلکہ نوجوانوں کے لیے ایک نئی سمت فراہم کرے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے بیٹے بیٹیاں ہنر سیکھیں، اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں اور ملک کی ترقی میں حصہ ڈالیں۔
انہوں نے کہا کہ بنو قابل کا مقصد محض فری ٹریننگ نہیں، بلکہ ایک مسلسل تعلیمی تحریک ہے۔جو نوجوان آج اس پروگرام کا حصہ ہیں، ہم ان کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھیں گے۔ وہ مزید کورسز کرنا چاہیں تو جماعت اسلامی ان کے لیے مزید مواقع فراہم کرے گی۔ ہمارا یہ رشتہ علم، ہنر اور کردار سازی پر مبنی ہے۔
حافظ نعیم نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا 65 فیصد حصہ 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، یعنی یہ حقیقی معنوں میں نوجوانوں کا ملک ہے۔ لیکن یہی نسل آج مایوسی اور بے روزگاری کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو بتایا جاتا ہے کہ ترقی کے لیے ملک چھوڑنا ضروری ہے، حالانکہ اگر یہی محنت پاکستان میں کی جائے تو یہاں زیادہ بہتر مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ (30 ملین) بچے اسکول سے باہر ہیں، جو نظامِ تعلیم پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔یہ ظلم ہے کہ دارالحکومت اسلام آباد جیسے شہر میں بھی ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ یہ انہی 78 سالہ حکمران اشرافیہ کا نتیجہ ہے جو غلامانہ ذہن کے ساتھ اقتدار میں ہیں اور جنہوں نے تعلیم کو ترجیح نہیں دی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صرف 12 فیصد نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کر پاتے ہیں، وہ بھی شدید مالی دباؤ میں۔ تعلیم کو دولت کی بنیاد پر تقسیم کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ جو قومیں تعلیم کو تجارت بناتی ہیں، وہ ترقی نہیں کر سکتیں۔
بنو قابل انٹری ٹیسٹ کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امیرِ جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ تعلیم کسی طبقے کی جاگیر نہیں، ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ امیر ہو یا غریب، سب کو ایک جیسی کوالٹی ایجوکیشن ملنی چاہیے۔
انہوں نے نوجوانوں سے عہد لیا کہ وہ اس جدوجہد میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں گے تاکہ پاکستان کے ہر بچے کو معیاری تعلیم حاصل ہو سکے اور طبقاتی تعلیمی تفریق کا خاتمہ کیا جا سکے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ یہ بات شاید اجنبی لگے، کیونکہ کسی سیاسی رہنما نے آج تک یہ نہیں کہا کہ امیر اور غریب دونوں کے لیے تعلیم کا معیار ایک جیسا ہونا چاہیے۔ لیکن یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کو یکساں تعلیمی مواقع فراہم کرے۔
انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا میں چاہتا ہوں کہ آپ صرف تنقید نہ کریں بلکہ اپنے حصے کا چراغ بھی جلائیں۔ جیسے الخدمت فاؤنڈیشن اور جماعت اسلامی نے عملی طور پر خدمت کی ہے، ویسے ہی آپ سب بنو قابل پروگرام کے سفیر بن جائیں خود بھی سیکھیں اور دوسروں کو بھی سکھائیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے واضح کیا کہ بنو قابل پروگرام سب کے لیے ہے چاہے کوئی ارب پتی ہو یا نادار، یہاں تعلیم مفت ملے گی اور سب کو ایک جیسی کوالٹی ایجوکیشن فراہم کی جائے گی۔”
انہوں نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن محدود وسائل میں یہ کام کر سکتے ہیں، تو ریاست پاکستان کیوں نہیں کر سکتی؟
اپنے خطاب میں انہوں نے حکمران طبقے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست طاقت کے مظاہرے تو کر سکتی ہے، مگر عوام کو تعلیم اور روزگار نہیں دے سکتی۔ یہ کیسی ماں ہے جو اپنی اولاد کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کرتی؟
انہوں نے کہا کہ ریاست کسی فرد، جرنیل یا سیاست دان کا نام نہیں، بلکہ 25 کروڑ عوام کا مجموعہ ہے یہ قوم حاکم ہے، بیوروکریسی نہیں۔
حافظ نعیم نے کہا کہ گزشتہ 78 سالوں میں جرنیل، جاگیردار، سرمایہ دار، سب نے حکومت کی، مگر نظام نہیں بدلا۔ مسئلہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ ذہنیت کا ہے۔ اب نوجوانوں میں شعور بیدار ہو رہا ہے اور وہ نظام کی تبدیلی کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔
انہوں نے نوجوانوں کو 21، 22 اور 23 نومبر کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والے جماعت اسلامی کے بڑے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی، جہاں نظام کی تبدیلی، نہ کہ چہروں کی تبدیلی کا لائحہ عمل پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم چہرے نہیں، نظام بدلنے آئے ہیں۔ یہی وہ وقت ہے جب نوجوان اس تحریک کا حصہ بنیں۔
حافظ نعیم نے عدالتی، تعلیمی اور بیوروکریٹک نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا ڈیجیٹل دور میں ہے مگر پاکستان میں اب بھی انصاف کے لیے دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ لوکل باڈیز کے انتخابات دس سال سے نہیں ہوئے، جب کہ اگر تعلیم اور بلدیاتی امور مقامی نمائندوں کو دیے جائیں تو عوامی دباؤ سے تبدیلی ممکن ہے۔
اختتام پر انہوں نے نوجوانوں کو مایوسی سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے مایوس نہ ہوں، یہ اللہ کا انعام ہے۔ اگر کچھ لوگ اس ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں تو ان سے مایوس ہوں، مگر پاکستان سے نہیں۔
ہمیں اپنے دین پر فخر ہونا چاہیے۔اسلام صرف عبادت نہیں، ایک مکمل نظامِ زندگی ہے جو عدل، مشاورت اور انصاف پر قائم ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو والدین اور اساتذہ کی عزت کرنے، سیرتِ نبوی ﷺ سے رہنمائی لینے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے پاکستان میں حقیقی تبدیلی لانے کی تاکید کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے آپ کا ہاتھ پکڑا ہے، جماعت اسلامی آپ کے ساتھ ہے، اور یہ نوجوان ہی وہ طاقت ہیں جو انقلاب برپا کریں گے۔







