سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان جاری کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ سعودی ولی عہد سے ملاقات میرے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات عقیدت، اعتماد اور دوستی کے مضبوط رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے ولی عہد کی ذاتی دلچسپی اور عزم کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا وژن خطے میں مشترکہ ترقی، استحکام اور خوشحالی کے نئے دور کی بنیاد رکھے گا۔

وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مطابق ریاض میں ہونے والی ملاقات میں سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز اور پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان "معاشی تعاون کے فریم ورک" کے آغاز پر اتفاق کیا۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق یہ فریم ورک دونوں برادر ممالک کے مشترکہ معاشی مفادات پر مبنی ہے اور اس کا مقصد تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانا ہے، تاکہ دونوں ممالک کی قیادت اور عوام کے باہمی مفادات کو فروغ دیا جا سکے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فریم ورک کے تحت توانائی، صنعت، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، زراعت اور غذائی تحفظ جیسے شعبوں میں اسٹریٹجک اور اعلیٰ اثر والے منصوبے شامل کیے جائیں گے۔

دونوں ممالک نے بجلی کے باہمی رابطے (Electricity Interconnection Project) پر یادداشتِ تفاہم (MoU) پر دستخط کرنے اور توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے بھی ایک علیحدہ معاہدے پر غور شروع کر دیا ہے۔

یہ اقدام پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنے کی مشترکہ خواہش کا مظہر ہے۔

دونوں رہنماؤں نے سعودی۔پاکستان سپریم کوآرڈی نیشن کونسل کے اجلاس کے جلد انعقاد پر بھی اتفاق کیا، جس کے ذریعے مستقبل کے مشترکہ منصوبوں پر عملی پیش رفت یقینی بنائی جائے گی۔