عطا تارڑ کے مطابق پاکستان نے مذاکرات کے دوران افغان سرزمین کو پاکستان مخالف دہشت گرد تنظیموں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کا مطالبہ کیا، تاہم طالبان نے پیش کیے گئے شواہد کے باوجود سرحد پار دہشت گردی روکنے کی کوئی ضمانت نہیں دی۔
انہوں نے کہا کہ افغان وفد بار بار گفتگو کے اصل نکتے سے ہٹتا رہا اور کلیدی مسائل پر مؤقف بدلتا رہا، جبکہ پاکستان نے جو شواہد پیش کیے وہ مکمل اور ناقابلِ تردید تھے۔ مذاکرات کا واحد ایجنڈا پاکستان پر افغان سرزمین سے حملے رکوانا تھا۔
عطا تارڑ نے الزام عائد کیا کہ طالبان افغان عوام کو غیر ضروری جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق افغان وفد نے بات چیت کے دوران الزام تراشی، ٹال مٹول اور حیلوں بہانوں کا سہارا لیا۔
Update on Pakistan - Afghanistan Dialogue, Istanbul - October 2025
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) October 28, 2025
Ever since the assumption of control in Kabul, Pakistan has repeatedly engaged with the Afghan Taliban Regime regarding persistent cross border terrorism by Indian-abetted Fitna al Khwarij (TTP) and Indian proxy,…
وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا اور اپنے شہریوں کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتا رہے گا۔
عطا تارڑ نے قطر اور ترکیہ کا مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ممالک نے طالبان کو پاکستان مخالف گروہوں کو بطور دباؤ استعمال کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کی۔
ذرائع کے مطابق کابل سے موصول ہونے والی ہدایات کے باعث افغان وفد کا مؤقف بار بار تبدیل ہوتا رہا، جس کی وجہ سے بات چیت آگے نہ بڑھ سکی۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان سے اس کا واحد مطالبہ سرحد پار دہشت گردی روکنا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اگر مذاکرات سے مسئلہ حل نہ ہوا تو پاکستان کے پاس دیگر اقدامات کا حق محفوظ ہے۔







