میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منعم ظفر خان کا کہنا تھا کہ رواں سال کراچی میں 700 شہری ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہوچکے ہیں اور 10 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ بھاری گاڑیوں کی وجہ سے 205 اموات ہوئیں۔ ٹینکر، ٹرالر اور ڈمپر عوام کے لیے موت کا پروانہ بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب وعدے کے باوجود غائب ٗہیں، جہانگیر روڈ، کریم آباد انڈر پاس، 7000 فٹ روڈ اور ایم ایم عالم روڈ تباہ حال ہیں۔ بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ اہل کراچی کے لیے خطرے کی علامت بن چکا ہے، 503 ملین امریکی ڈالر کے اس منصوبے کی تکمیل کی کوئی ڈیڈ لائن نہیں۔
ای چالان! پنجاب میں 200 روپے اور کراچی میں 5000 روپے جرمانہ#karachi #trafficpolice #echallan #karachimatters pic.twitter.com/l21JDxzGav
— Karachi Matters (@khimatters) October 29, 2025
امیر جماعتِ اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ سندھ میں صرف چھ گھنٹوں میں سوا کروڑ کے چالان کیے گئے، چالان عالمی معیار کے کیے جارہے ہیں اور سڑکیں کچے کے علاقے سے بھی بدتر ہیں،۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ای چلان جرمانے دس گنا کم ہیں، اتنا فرق کیوں ہے؟ سندھ حکومت عوام کو شعور دینے کے بجائے صرف جرمانوں سے خزانہ بھرنے میں لگی ہے۔







