بنو قابل راولپنڈی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے نوجوانوں سے مایوس یا ناامید ہونے کی ضرورت نہیں ہے، یہ پڑھنا چاہتے ہیں اور کچھ بننا چاہتے ہیں، ان کو اگر مواقع دیں گے تو یہ آگے بڑھ کر کام کریں گے، اگر ان کے سارے راستے ہیں بند کردیے جائیں تو یہ کہاں جائیں گے؟

انہوں نے کہا کہ حکومت اس منظرنامے کو دیکھ لے جوکہ اس وقت پورے پاکستان میں ہے، کوئٹہ بنوقابل ٹیسٹ میں بچوں اور بچیوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر ٹیسٹ دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے ہمیں لوگوں کی خدمت کرنے کا موقع عطا کیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعتِ اسلامی اپنے لوگوں کو مخلصانہ طریقے سے آگے لے کر بڑھنا چاہتی ہے۔اگر ہمیں ضرورت پڑی تو ہم اگلے دو سال میں دو ملین لوگوں کو پڑھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر جماعتِ اسلامی عوامی تعاون سے طلباء کو فری پڑھا سکتی ہے تو حکومتِ پاکستان کیوں نہیں پڑھا سکتی، اگر حکومتِ پاکستان آئی ٹی کی تعلیم کو فری کردے تو اس سے کچھ خاص فرق نہیں پڑے گا، مگر اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ دیہاتوں سے بھی طلباء آگے آئیں گے۔  

امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ نوجوانوں کو جب پڑھایا نہیں جاتا، ان کو مواقع نہیں دیے جاتے اور انہیں کوالٹی ایجوکیشن نہیں ملتی تو یہ کیا کریں گے؟ نوجوان منشیات کا شکار اس لیے بنتے ہیں کیونکہ ان کے پاس مواقع نہیں ہیں۔ حکمرانی کرنے والے اس ظالم طبقے نے تعلیم کو طبقات میں تقسیم کردیا ہے، ایلیٹ کلاس طبقے کا الگ تعلیم معیار ہوگا، مڈل کلاس کا علیحدہ اور غریبوں کا علیحدہ ہوگا، مگر ایسا نہیں چلے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں یہ ظالمانہ نظام نہیں چلے گا اور اس کو بدلنا پڑے گا۔ غریب ہو، مڈل کلاس ہو، مزدور ہو یا پھر کسان، سب کا حق ہے کہ ان کے بچے ایک جیسی تعلیم حاصل کریں۔ ہمیں مفت اور معیاری تعلیم چاہیے، یہ خیرات نہیں بلکہ ہمارا حق ہے اور ہم اس  حق کے لیے آواز اٹھائیں گے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعتِ اسلامی محض نعرہ نہیں لگاتی کہ ایسا کردیا جائے بلکہ اپنی سطح پہ جو ہوسکتا ہے وہ کرتی ہے، ہم نے وہ قرض بھی اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے۔ یہ ایک انقلاب، ایک امید ہے اور اس سے نوجوان جڑتے چلے جارہے ہیں، ہم اس امید کو توڑ نہیں سکتے۔