نجی نشریاتی ادارے ڈان نیوز کے مطابق، ایس پی عدیل اکبر کی موت کی تحقیقات کرنے والی تین رکنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ کو حتمی شکل دے دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایس پی عدیل اکبر کی موت چہرے پر لگنے والی گولی سے ہوئی ہے تاہم واقعے میں خودکشی کے شواہد نہیں پائے گئے۔

تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی سربراہی ڈی آئی جی ہارون جوئیہ کر رہے تھے۔ کمیٹی نے ایس پی عدیل اکبر کے وائرلیس آپریٹر، ڈرائیور، دیگر اسٹاف ارکان اور ماہرِ نفسیات کے بیانات ریکارڈ کیے۔ ماہر نفسیات نے انکشاف کیا کہ ایس پی عدیل اکبر نے اپنے معالج سے دو مرتبہ رجوع کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق، کمیٹی نے پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی حاصل کر لی ہے، جس میں تصدیق ہوئی ہے کہ گولی سیدھی چہرے پر لگی تھی۔

انکوائری کمیٹی اپنی رپورٹ آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کو پیش کرے گی، جو اپنی سفارشات کے ساتھ رپورٹ وزیرِ داخلہ محسن نقوی کو ارسال کریں گے۔

واضح رہے کہ 23 اکتوبر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ ایس ایس پی عدیل اکبر نے مبینہ طور پر شاہراہِ دستور پر گاڑی میں خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی تھی۔ تاہم، انکوائری رپورٹ میں خودکشی کے شواہد نہ ملنے سے کیس مزید پیچیدہ رخ اختیار کر گیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 27 اکتوبر کو جو انکوائری رپورٹ مرتب کی گئی تھی اُس میں ان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا۔