وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک اہم انٹرویو میں پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے حکومت کی پالیسیوں کی کامیاب کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ 3 سے 5 سال میں برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 12 سے 14 ماہ کے دوران معیشت کی بہتری کے لیے اہم اقدامات کیے گئے، جن کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے حکومت کی معاشی حکمت عملی کو سراہتے ہوئے بتایا کہ مہنگائی اور شرح سود میں کمی کے لیے فیصلہ کن اقدامات کیے گئے ہیں جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام آیا اور دہرے خسارے کو قابو کیا گیا۔
اس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور مالیاتی خسارہ سرپلس میں تبدیل ہو گئے ہیں جو ملک کی معیشت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے گا اور سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنے کے لیے رائٹ سائزنگ کی جائے گی۔ اس عمل سے حکومتی اخراجات میں واضح کمی آئے گی اور عوامی فلاح و بہبود پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور حکومت خطے میں پاکستان کی تجارتی شراکت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس اقدام سے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ممکن ہوگا اور معیشت کو نئی قوت ملے گی۔ ان کی باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کی جانب سے معیشت کی بہتری کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، جو مستقبل میں پاکستان کے لیے خوشحالی کی راہیں ہموار کریں گے۔
یہ اقدامات پاکستان کی معیشت کے لیے ایک نئی امید کی کرن بن سکتے ہیں، اور وزیر خزانہ کا عزم اس بات کا غماز ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان عالمی سطح پر اپنے اقتصادی مقام کو مستحکم کرے گا۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق، جون 2024 میں گزشتہ مالی سال کے اختتام تک ملکی برآمدات 30 ارب ڈالر سے زائد رہیں، جو پچھلے سال کے 27 ارب ڈالر سے 11 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہیں۔
واضح رہے کہ رواں مالی سال کے پہلے سات مہینوں میں برآمدات 10 فیصد بڑھ کر 19 ارب ڈالر سے زائد تک پہنچ گئیں جو کہ 2023 میں اسی عرصے میں تقریبا 18ارب ڈالر تھیں۔
مزید پڑھیں: ‘تعلیم ہمارا حق ہے کوئی خیرات نہیں’ حافظ نعیم