نجی نشریاتی ادارے اے آر وائی نیوز کے نجی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگر پارٹی کسی اور کو گورنر نامزد کرتی ہے تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ گورنر راج لگانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ صوبے میں صورتحال ایسی نہیں ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ آئین میں درج ہے کہ کس صورتحال میں گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں وفاق اور صوبے کے درمیان تناؤ پیدا نہ ہو اور تمام مسائل بات چیت سے حل کیے جائیں۔

گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ مجھے سابق گورنرز اور سابق وزرائے اعلیٰ کو آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خود تمام سیاسی جماعتوں کو اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی جو کہ ایک مثبت قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ کے پی میں سب سے بڑا مسئلہ امن کا ہے اور صوبے کے امن کے لیے حکومت و اپوزیشن کو مل کر کام کرنا چاہیے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کابینہ کے حلف برداری کی تقریب میں پارٹی قیادت بھی موجود تھی، جہاں مجھے کہا گیا کہ امن کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔ میں نے بھی یقین دلایا کہ ماضی کی طرح کوئی تلخیاں پیدا نہیں کی جائیں گی اور ہم صوبے کی بہتری میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔

مزید پڑھیں: ای چالان عوام پر مالی بوجھ ڈالنے کا ایک ’ڈراما‘ ہے، حافظ نعیم الرحمان

گورنر خیبر پختونخوا نے اے پی سی کے انعقاد کو صوبے کی امن و خوشحالی کے لیے خوش آئند قدم قرار دیا اور کہا کہ ماضی میں بھی اپوزیشن جماعتوں نے ایسی کانفرنسز میں شرکت کی ہے، اسمبلی میں سیکیورٹی صورتحال پر پارلیمانی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے تاکہ مشترکہ طور پر مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔