اپریل 5, 2025 12:36 صبح

English / Urdu

Follw Us on:

پاکستان میں 2024 میں خواتین پر تشدد: ایک سنگین مسئلہ

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک

پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کا مسئلہ ایک سنگین صورت اختیار کرچکا ہے، اور 2024 کے دوران اس میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ تشدد صرف ایک یا دو نوعیت تک محدود نہیں ہے بلکہ مختلف طریقوں سے خواتین کو نقصان پہنچایا جارہا ہے، جس میں جنسی زیادتی، اغواء، گھریلو تشدد، اور غیرت کے نام پر قتل شامل ہیں۔ اس سال ملک بھر میں خواتین پر تشدد کے 32ہزار 617 واقعات رپورٹ ہوئے، جو کہ ایک انتہائی تشویشناک بات ہے۔

تشویشناک اعدادوشمار

2024 میں خواتین کے خلاف تشدد کی کچھ خاص نوعیتیں جو رپورٹ ہوئیں، ان میں جنسی زیادتی کے 5ہزار 339 واقعات، اغواء کے 24ہزار 439 کیسز، گھریلو تشدد کے 2ہزار 238 واقعات، اور غیرت کے نام پر 547 خواتین کی ہلاکتیں شامل ہیں۔ یہ اعدادوشمار اس بات کا غماز ہیں کہ پاکستان میں خواتین کی حالت بہتر ہونے کے بجائے دن بدن ابتر ہوتی جارہی ہے۔

جنسی زیادتی

پاکستان میں خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ 2024 میں 5ہزار 339 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ یہ واقعات اکثر خاندانوں میں بھی پوشیدہ رکھے جاتے ہیں، اور متاثرہ خواتین کو معاشرتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اغواء

پاکستان میں خواتین کے اغواء کے واقعات میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ 24ہزار 439 خواتین کا اغواء کیا گیا، جس میں مختلف وجوہات جیسے جبری شادی، غیرت کے نام پر اغواء، یا پھر جسمانی استحصال کے لیے۔ اغواء کا یہ رجحان ایک اور سنگین مسئلہ بن چکا ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

گھریلو تشدد

گھریلو تشدد ایک ایسا مسئلہ ہے سال 2024 میں 2ہزار 238 واقعات رپورٹ ہوئے۔ یہ واقعات خاندانوں کے اندر خواتین کی آزادی، ان کے جسمانی اور ذہنی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ گھریلو تشدد کی یہ نوعیت معاشرتی اور ثقافتی سطح پر بھی موجود ہے، جس کی وجہ سے خواتین کی زندگیوں پر گہرا اثر پڑتا ہے۔

غیرت کے نام پر قتل

پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہیں، لیکن اس سال 547 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، جو کہ ایک سنگین صورت حال کو ظاہر کرتا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل ایک ایسی روایتی اور جاہلانہ سوچ کا حصہ ہے جو عورتوں کے انسانی حقوق کی شدید پامالی کرتی ہے۔

پاکستان میں خواتین کے حقوق کی صورتحال

پاکستان میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے قوانین موجود ہیں، لیکن ان کے نفاذ میں کمی ہے۔ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ان کے خلاف ہونے والے تشدد کو روکا جا سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرے اور قانون کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ معاشرتی آگاہی پیدا کرے تاکہ خواتین کو ان کے حقوق اور تحفظ کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

متعلقہ پوسٹس