دنیا بھر میں ہر سال 22 مارچ کو پانی کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد میٹھے پانی کے بحران اور اس کے حل کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں گلیشیئرز کی اب تک کی سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 1975 سے اب تک گلیشیئرز سے 9,000 گیگاٹن برف کا نقصان ہو چکا ہے، جو جرمنی کے سائز کے برفانی بلاک کے برابر ہے اور اس کی موٹائی 25 میٹر ہے۔
عالمی گلیشیئر مانیٹرنگ سروس کے ڈائریکٹر مائیکل زیپ نے جنیوا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ “یہ منظرنامہ انسانیت کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔”
گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث دنیا کے مختلف خطوں، جیسے قطب شمالی، الپس، جنوبی امریکا اور تبت کی سطح مرتفع میں سیلابوں کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ عمل موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدت اختیار کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں زراعت اور توانائی کے شعبے پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
مائیکل زیپ کے مطابق پچھلے چھ برسوں میں سے پانچ میں سب سے زیادہ برف کا نقصان ریکارڈ کیا گیا ہے، جب کہ 2024 میں اب تک 450 گیگاٹن برف پگھل چکی ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کی رپورٹ کے مطابق دو ارب سے زائد افراد صاف پانی کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں اور ہر دو منٹ میں ایک پانچ سال سے کم عمر کا بچہ آلودہ پانی اور ناقص صفائی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔”
اس کے علاوہ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ “دنیا کے تین میں سے ایک اسکول میں پانی کی بنیادی سہولت نہیں ہے جو کہ اس مسئلے کی اہمیت کو مزید واضح کرتا ہے۔
پاکستان میں پانی کی کمی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
‘پاکستان میٹرز’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق پروونشنل ہیڈ واٹر ایڈ یوکے، فراقت علی نے کہا کہ پاکستان میں بارشیں تو ہوتی ہیں، مگر ہم اسے محفوظ نہیں کرتے، جس کی وجہ سے وہ رحمت کے بجائے زحمت بن جاتی ہیں۔
پانی اور موسم کا بھی آپس میں گہرا تعلق ہے اور گلیشیئرز اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جب کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے ان دریاؤں کا موسمی بہاؤ متاثر ہو رہا ہے، جو لاکھوں افراد کی زراعت، پینے کے پانی کی فراہمی اور ہائیڈرو پاور کے لیے بہت ضروری ہیں۔
فراقت علی نے کہا ہے کہ ہماری ناقص منصوبہ بندی اور پانی کے غیر مؤثر استعمال نے ہمیں اس نہج پر پہنچایا ہے۔ جنوبی افریقہ کے بعد دنیا کا دوسرا ملک ہے جہاں پانی کا بحران شدت اختیار کرنے والا ہے۔
عالمی اکانونمک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ “گلیشیئرز کی پگھلنے کے عمل کو روکنا یا اس سے بچنا ممکن نہیں ہے مگر ہم ان کے پگھلنے کے اثرات کو کم ضرور کر سکتے ہیں۔ ہمیں گلیشیئرز کے پانی کو زیادہ مستحکم اور پائیدار طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لاکھوں افراد کو محفوظ پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔”
پاکستان میں پانی کے غیر ضروری استعمال پر بات کرتے ہوئے فراقت علی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر شخص پانی کا ضیاع کرتا ہے، چولستان میں لوگ پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے ہیں، لیکن لاہور کی ہر گلی میں گاڑیاں دھوتے لوگ نظر آتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہم نے پانی کی قدر نہ کی تو ساؤتھ افریقہ کے بعد پاکستان کا نمبر ہوگا۔
آج کے دور میں عالمی اکانومک فورم کا ‘اپ لنک پلیٹ فارم’ ایسے انٹرپرینیورز کی حمایت کرتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی انحطاط اور غربت جیسے عالمی چیلنجز کے حل کے لیے کام کر رہے ہیں۔
فراقت علی کے مطابق پاکستان میں صرف 16 فیصد پانی پینے کے قابل ہے، جب کہ 84 فیصد آلودہ پانی استعمال ہو رہا ہے، جو صحت عامہ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
انہوں نے سندھ میں پانی کی قلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں جانور اور انسان ایک ہی تالاب سے پانی پینے پر مجبور ہیں، جب کہ پنجاب کے بہاولپور، خانیوال اور جھنگ کے کچھ علاقوں میں بھی پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں پانی کے ضیاع کی وجہ سے خشک سالی کا تخمینہ لگایا جارہا ہے۔
فراقت علی نے کہا ہے کہ مستقبل میں جنگیں پانی کے لیے ہوں گی، یہ صرف پاکستان یا ایشیا کا نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی پانی کے معاملے پر تنازع شدت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ بھارت پانی کے ذرائع پر کنٹرول کر رہا ہے۔
پاکستان میں جہاں ایک طرف سندھ سے نکالی جانے والی نہروں کا مسئلہ تنازعے کا شکار ہے، وہیں دوسری جانب ڈیمز میں پانی کی خطرناک حد تک ہوتی کمی نے تشویش پیدا کردی ہے۔
فراقت علی کے مطابق پاکستان میں بارشوں کی کمی کے باعث ڈیموں میں پانی کا لیول خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے اور جب بھی کوئی نیا ڈیم بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، تو سیاسی انتشار شروع ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے واٹر اینڈ جوڈیشل کمیشن قائم کیا ہے تاکہ پانی کے تحفظ کے لیے مؤثر حکمت عملی ترتیب دی جا سکے، لیکن عملی اقدامات اب بھی ناکافی ہیں۔
عالمی سطح پر چند ایسے اقدامات کا ہونا نہایت ضروری ہے جن سے ان پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کو بچایا جاسکے اور پانی کے وسائل کو محفوظ کیا جا سکے۔ ان گلیشیئرز کے پگھلنے کے عمل سے پانی کے وسائل غیر متوقع اور غیر یقینی ہوتے جارہے ہیں، جس کے نتیجے میں طویل خشک سالی، مٹی کی نمی میں کمی اور پانی کے ذخیروں کی سطح میں کمی جیسے مسائل جنم لے رہے ہیں۔
فراقت علی نے کہا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ بڑے پیمانے پر پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے اقدامات کرے، عوامی سطح پر شعور اجاگر کرے اور سخت قوانین بنا کر ان پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال ورلڈ واٹر ڈے کا تھیم گلیشیئرز کے پانی کے تحفظ پر ہے، کیونکہ پوری دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہے۔
عالمی سطح پر چند ایسے اقدامات کا ہونا نہایت ضروری ہے جن سے ان پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کو بچایا جاسکے اور پانی کے وسائل کو محفوظ کیا جا سکے۔
مزید یہ کہ پاکستان میں موسم کے غیر متوقع تغیرات جیسے اچانک گرمیوں کا آنا یا بے وقت برفباری فصلوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ اگر پانی کے ذخائر محفوظ نہ کیے گئے، تو مستقبل میں صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
پانی ایک قیمتی قدرتی وسیلہ ہے اور اگر اس کے ضیاع کو نہ روکا گیا تو مستقبل میں ہمیں شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی یوم آب اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے پانی کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ آنے والی نسلیں اس قیمتی وسیلے سے محروم نہ ہو جائیں۔