عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی سربراہ، کرسٹلینا جیورجیا نے امریکی ٹیرف کو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے نئے ٹیرف عالمی اقتصادی استحکام کے لیے ایک نمایاں چیلنج بن سکتے ہیں۔
انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ اپنے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو عالمی معیشت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
آئی ایم ایف کی سربراہ نے مزید کہا کہ سست شرح نمو کے دور میں امریکی ٹیرف عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ایسے فیصلوں سے بچا جائے جو عالمی اقتصادی صورتحال کو مزید متاثر کریں۔
یہ بھی پڑھیں: مہنگائی کے کاغذی اعدادوشمار اور زمینی حقیقت میں تضاد کیوں؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے مختلف ممالک کے خلاف جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں پاکستان، چین، ترکیہ اور دیگر ممالک شامل ہیں۔
9 اپریل سے پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا جب کہ چین، یورپی یونین، جاپان اور دیگر ممالک پر بھی مختلف شرحوں پر ٹیرف لگائے جائیں گے۔
دنیا کے مختلف ممالک نے اس فیصلے کو غیر ضروری اور عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے امریکی ٹیرف کے خلاف جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب کینیڈا نے اس فیصلے کے خلاف اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ آسٹریلیا اور یورپی ممالک نے بھی اس اقدام کو غلط قرار دیا ہے۔
امریکی ٹیرف میں اضافے کے اعلان کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھنے کو ملی ہے جس کے نتیجے میں اسٹاک مارکیٹ 1500 پوائنٹس تک گر گئی۔
یہ تمام صورتحال کووڈ-19 کی وبا کے بعد امریکی اسٹاکس کی سب سے بدترین کارکردگی ہے اور دنیا بھر کی مالیاتی منڈیاں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکی ٹیرف پالیسی: انڈیا کی معیشت پر گہرے اثرات اور ریپو ریٹ میں کمی کی پیشگوئی