اپریل 6, 2025 3:10 شام

English / Urdu

Follw Us on:

غلام فرید صابری کیوں آج بھی ہر دل میں زندہ ہیں؟

نیوز ڈیسک
نیوز ڈیسک

فرید صابری پاکستان کے معروف قوالوں میں سے ایک تھے، جنہوں نے صابری برادران کے پلیٹ فارم سے قوالی کو بین الاقوامی سطح پر روشناس کرایا۔ اُن کا تعلق ایک روحانی اور موسیقی کے حوالے سے مشہور خاندان سے تھا، اور اُن کے والد غلام محی الدین قوال خود بھی قوالی کے فن میں مہارت رکھتے تھے۔ فرید صابری نے اپنے بھائی مقبول احمد صابری کے ساتھ مل کر صابری برادران کی بنیاد رکھی، اور دونوں نے مل کر قوالی کو محض مذہبی یا روحانی روایت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک فن کی صورت میں دنیا بھر میں متعارف کرایا۔

فرید صابری کی آواز میں ایک خاص طرح کی گہرائی، درد اور روحانیت تھی جو سننے والوں کو وجد میں لے آتی تھی۔ اُن کی قوالیوں میں کلاسیکی موسیقی کی جھلک بھی نمایاں تھی اور انہوں نے ہمیشہ روایت اور جدت کا خوبصورت امتزاج پیش کیا۔ “تاجدارِ حرم”، “بھردو جھولی”، اور “سرکار کی گلیوں میں” جیسی قوالیاں آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

فرید صابری نہ صرف ایک عظیم قوال تھے بلکہ ایک متواضع انسان بھی تھے۔ اُن کا اندازِ گفتگو، سادگی اور روحانی رجحان اُن کی شخصیت کا خاصہ تھا۔ اُنہوں نے قوالی کو کبھی صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ ہمیشہ اسے ایک روحانی پیغام کے طور پر پیش کیا۔ اُن کی قوالیاں عشقِ رسول، تصوف، اور معرفت کے مضامین سے بھرپور ہوتی تھیں۔

اُن کا فن آج بھی نوجوان قوالوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ فرید صابری کی خدمات کو پاکستان میں قوالی کے فروغ کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اُن کی گائیکی ایک ورثہ ہے، جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہے گی۔

یہ پاکستان میٹرز نیوز ڈیسک کی پروفائل ہے۔

نیوز ڈیسک

نیوز ڈیسک

Share This Post:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ پوسٹس